23 فروری 2026 - 11:28
مآخذ: ابنا
امریکہ مزاحمتی گروہوں پر پابندیاں لگا کر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے

عراق کے ایک رکنِ پارلیمان مقداد الخفاجی نے امریکہ کی علاقائی پالیسیوں کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف مزاحمتی قوتوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور دوسری جانب دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے فضا ہموار کرتا ہے۔

امریکہ مزاحمتی گروہوں پر پابندیاں لگا کر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے ایک رکنِ پارلیمان مقداد الخفاجی نے امریکہ کی علاقائی پالیسیوں کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف مزاحمتی قوتوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور دوسری جانب دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے فضا ہموار کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے المعلومه کے مطابق الخفاجی نے سابق امریکی صدر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے شام میں دہشت گردی کی حمایت کی جبکہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کے خلاف کھڑے ہونے والی مزاحمتی قوتوں کے خلاف پابندیاں عائد کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دور کی امریکی پالیسی کھلے عام دوہرے معیار کی عکاس رہی، جہاں ایک طرف شام میں بعض گروہوں کو سہولتیں فراہم کی گئیں اور دوسری جانب اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنایا گیا۔

الخفاجی نے مزید کہا کہ یہ طرزِ عمل خطے میں انتشار پھیلانے کے امریکی منصوبے کو ظاہر کرتا ہے، جس کی بھاری قیمت عراق اور دیگر ممالک کو چکانی پڑی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کو بے نقاب کرے اور واشنگٹن کو اس کی مداخلتوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔

انہوں نے زور دیا کہ عوام دباؤ اور پابندیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ مکمل خودمختاری کے حصول تک اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کے ہزاروں عناصر کی شام سے عراق منتقلی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں امریکی قیادت میں قائم اتحاد اور امریکی مرکزی کمان سینٹکام کے حوالے سے بیان کیا گیا۔

ان بیانات کے بعد خطے میں امریکی کردار اور سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha