اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لیبیا کے ایک میڈیا ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد امریکا سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی واپس لینے کے مطالبات میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ جنوبی امریکا کی بڑی فٹبال ٹیموں کی جانب سے ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا امکان بھی سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔
لیبیائی خبر رساں ویب سائٹ اخبار لیبیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وینزویلا میں فوجی آپریشن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری کے باضابطہ اعلان کے بعد عالمی سطح پر امریکا پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کئی ممالک اور سوشل میڈیا صارفین نے امریکا سے ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی واپس لینے اور حتیٰ کہ لاس اینجلس اولمپکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور فیفا اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکا کے خلاف تادیبی اقدامات کریں۔
3 جنوری کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں امریکی اٹارنی جنرل پامیلہ بونڈی نے بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف باضابطہ الزامات عائد کر دیے گئے ہیں اور انہیں نیویارک کی جنوبی ضلعی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اخبار لیبیا کے مطابق، امریکا کے اس اقدام پر وینزویلا کے ہمسایہ ممالک اور دیگر جنوبی امریکی ریاستوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی مذمت کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ امریکا سے ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی واپس لی جائے یا امریکی قومی فٹبال ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کیا جائے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو جنوبی امریکا کے کئی ممالک اور فٹبال شائقین ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے حق میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر امریکا کی میزبانی منسوخ کرنے کی مہم چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں حامی حاصل کر چکی ہے۔
اخبار لیبیا نے لکھا کہ دنیا کے دیگر خطوں سے بھی اسی نوعیت کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور سوشل میڈیا صارفین فیفا اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی سے سوال کر رہے ہیں کہ امریکا کے اقدامات پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یوکرین جنگ کے باعث روس پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026، 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونا ہے۔ 16 میزبان شہروں میں سے 11 امریکا میں واقع ہیں، جہاں 104 میں سے 78 میچ کھیلے جانے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں میزبانی تبدیل کرنا انتہائی مشکل ہے، لیکن موجودہ حالات میں بہت سے مبصرین کے نزدیک فٹبال کے عالمی جشن کا انعقاد متنازع ہو چکا ہے۔
اخبار لیبیا کے مطابق، جنوبی امریکا کی بڑی ٹیموں کی جانب سے ممکنہ بائیکاٹ فیفا اور ورلڈ کپ کی ساکھ کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹارز کی عدم شرکت نہ صرف ایک اخلاقی بحران بلکہ فیفا کے لیے ایک بڑی مالی تباہی بھی بن سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر حتمی فیصلے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ کا تبصرہ