برازیل میں امریکہ کے وینزویلا پر حملے اور مادورو کے اغوا کے خلاف مظاہرے
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں سینکڑوں شہریوں نے جمع ہو کر وینزویلا کے خلاف واشنگٹن کے اقدامات اور اس ملک کے صدر کے اغوا کی شدید مذمت کی۔
منگل کے روز ریانووستی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ احتجاجی مظاہرہ مزدور یونینوں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے “ٹرمپ، وینزویلا سے باہر نکلو!” اور “وینزویلا کا احترام کیا جانا چاہیے” جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرہ شہر کے مرکزی علاقے میں ہوا اور اس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ایک بڑا وینزویلا کا پرچم بھی لہرایا اور ایسے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں وینزویلا کے تیل میں امریکہ کی دلچسپی اور اس ملک کے وسائل کی لوٹ مار کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔
ریو ڈی جنیرو میں “پیپلز یونٹی فار سوشلزم” پارٹی کی ترجمان لونا نورماندی نے ریانووستی کے مقامی نمائندے سے گفتگو میں کہا:
“یہ حملہ صرف وینزویلا کے خلاف نہیں بلکہ پوری لاطینی امریکہ کے خلاف ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ دنیا کی مالک ہے اور کسی بھی ملک پر حملہ کر سکتی ہے، اور پھر ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔”
واضح رہے کہ امریکہ نے ہفتے کی صبح وینزویلا پر حملہ کیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ وینزویلا کی حکومت نے اس اقدام کو “فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے ہنگامی حالت نافذ کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران، بعض ممالک حتیٰ کہ امریکہ کے کچھ اتحادیوں نے بھی محتاط ردِعمل دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری پر زور دیا۔ ایران، روس اور دیگر کئی ممالک نے واشنگٹن کے اقدام کی مذمت کی اور خطے اور عالمی نظام کے استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ، جنہیں حملے کے دوران اغوا کر کے امریکہ منتقل کیا گیا تھا، پیر کے روز ایک امریکی عدالت میں پیش ہوئے۔ جج آلوین ہیلرستین نے فردِ جرم پڑھتے ہوئے مادورو پر نارکو-دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
63 سالہ مادورو نے عدالت میں کہا:“میں بے گناہ ہوں، میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کاراکاس میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور وہ خود کو اب بھی وینزویلا کا صدر سمجھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ