بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اگست 2025 میں، صہیونی ریاست کو شکست دینے کے محض کچھ عرصے بعد، انقلاب اسلامی رہبر معظم رہبر نے ایک تزویراتی اور دوراندیشانہ رائے کے ساتھ دشمن کے آخری منصوبے سے پردہ اٹھایا؛ ایک ایسا نتیجہ جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف چار دہائیوں کے آزمائش اور غلطی (Trial and error یا سعی و خطا) کا حاصل تھا۔ رہبر انقلاب نے واضح کیا کہ دشمن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ "ایران کو جنگ سے اور فوجی حملے سے زیر نہیں کیا جا سکتا" اور سخت اور براہ راست ہتھکنڈے نہ صرف اسلامی جمہوریہ کو پیچھے نہیں دھکیل سکے ہیں، بلکہ اسے "دن بہ دن مزید طاقتور" بنا دیا ہے۔ اسی وجہ سے، نیا راستہ متعین کیا گیا: "انہوں نے دیکھا کہ اس کا راستہ یہ ہے کہ اندر اختلاف پیدا کریں، اندر نفاق پیدا کریں؛ البتہ اندر ان کے عوامل بھی ہیں؛ صہیونیت کے عوامل، امریکہ کے عوامل، ہیں ملک کے کونے کونے میں؛ ان کے ذریعے یا ان لوگوں کے ذریعے، جو بولتے ہیں اور جو لکھتے ہیں تاکہ عوام میں اختلاف پیدا کریں اور ملک میں کئی آوازیں [اور دوئیت] پیدا کریں۔" (24 اگست 2025)
آج چھ جنوری 2026ع ہے کا دن ہے؛ اس واضح انتباہ کے کچھ مہینوں بعد۔ اب واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ تجزیہ اس منظر نامے کی عین مطابق تھا جس پر عملدرآمد کے لئے دشمن مناسب موقع تلاش کر رہا تھا۔ حالیہ حرکتیں، بالکل اسی لائن پر ہوئیں جو رہبر انقلاب نے متعین کی تھی۔ ایک معاشی مطالبے کو ایک سیکورٹی منصوبے میں تبدیل کرنا اور پھر اسے ملک دشمنی کے حق میں، ضبط کرنے۔ کی کوشش کرنا۔
کچھ دن بعد اس کے کہ کچھ دھاروں نے دانستہ طور پر عوامی احتجاج کے ماحول کو اس کے فطری راستے سے ہٹا کر ہنگامہ آرائی کی جانب موڑنے کی کوشش کی، اسلامی انقلاب کے رہبر معظم نے ایک بار پھر، "حق بجانب مطالبہ" اور "نفوذ اور دراندازی کے منصوبے" کے درمیان فرق کی لکیر کو دوبارہ واضح کیا۔ آپ نے براہ راست انہی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "لہذا دکانداروں کا احتجاج اس معاملے پر تھا؛ اور یہ معاملہ، صحیح معاملہ ہے۔ جو چیز اہم ہے، وہ یہ ہے کہ دشمن کے بھڑکائے ہوئے بکے ہوئے افراد کا ایک گروہ دکانداروں کے پیچھے کھڑا ہو اور اسلام مخالف، ایران مخالف اور اسلامی جمہوریہ مخالف نعرے لگائے؛ یہ اہم ہے۔" یہ بیان دشمن کے اسی منظر کی عین تصویر تھا جو حالیہ دنوں میں، پیشہ ورانہ احتجاجوں کے اندر سے دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کچھ تاجروں اور دکانداروں کا محدود احتجاج، جو معاشی اور زندگی کے مسائل پر مرکوز تھا، تہران کے کچھ مقامات پر شروع ہؤا؛ ایک ایسا احتجاج جو اپنی ذات میں، نہ سیاسی تھا اور نہ ہی ڈھانچہ توڑنے والا۔ لیکن اس کے ضمن میں پہلے ہی لمحوں سے، ایک ایسی باغیانہ سوچ کا نشان دیکھا گیا جو اس پیشہ ورانہ مطالبے کو اس کے فطری راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ احتجاجوں کو سڑکوں پر لانے کی کوشش، جھگڑوں کو ہوا دینا اور ہنگامہ آرائی کے نمونے تھوپنا، اسی زنجیر کی پہلی کڑی تھی جس کے بارے میں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا۔
اس کی واضح مثال، وہ ویڈیو تھی جو پہلے دن سوشل میڈیا پر ہاتھوں ہاتھ گھومتی رہی؛ ایک عورت جو مارکیٹ میں، عوام کو سڑکوں پر آنے اور ہنگامہ بپا کرنے کی دعوت دے رہی تھی، لیکن اس کو تاجرو اور دکانداروں کے واضح ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاجروں کا جواب، خود ایک دستاویز تھا: "ہم تخریب کار نہیں ہیں، سڑکوں پر بھی نہیں جائیں گے؛ ہم احتجاج کرتے ہیں، بلوے نہیں۔"
بعد کے دنوں میں، واقعے کے پوشیدہ پہلوؤں کا انکشاف ہؤا۔ صہیونی اور امریکی دھاروں سے وابستہ عناصر کی ملک کے مختلف مقامات پر گرفتاری، سے عیاں ہوتا ہے کہ محض میڈیا کی لہروں پر سواری مقصد نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ افراد، مسلح تھے اور ہتھیار ساتھ رکھ کر، کشیدگی کو بڑھانے اور پرامن احتجاجوں کو وسیع پیمانے پر بے چینی میں بدلنے کے درپے تھے۔
اس دوران، مخالف میڈیا کا کردار بھی مکمل طور پر قابل پیشن گوئی (Predictable) تھا۔ علامت سازی، مقتول سازی اور پیش منظر کی نئی تعریف کی کوشش، ان ذرائع ابلاغ کا مستقل نمونہ ہے؛ ایک ایسا نمونہ جو ہمیشہ میدانی حقیقت کو سرحدوں سے باہر کے تھنک ٹینکس کے لئے مطلوبہ، تصویر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مثال کے طور پر سوشل میڈیا کے کچھ چینلز نے دعویٰ کیا کہ "فسا" شہر کے گورنریٹ پر حملے کے دوران، مہدی سماواتی نامی 18 سالہ لڑکا جنگی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ لیکن دہدشت (کہگیلویہ اور بویراحمد) کے "14 سالہ" مہدی سماواتی کے خاندان، نے کچھ دیر پہلے اعلان کیا کہ ان کا بیٹا مکمل طور پر صحیح و سالم اور زندہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے بیٹے کا فسا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اب تک اس نے اس شہر کا دیکھا ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد مہدی سماواتی نے خود اپنی زندہ ہونے کی خبر دیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کردی اور کہا کہ میں زندہ سلامت ہوں اور میرے بارے میں کہی ہوئی باتیں سراسر جھوٹ ہیں۔
لیکن واقعے کا عروج، وہ مرحلہ تھا جب بیرونی مداخلت پوشیدہ پرتوں سے باہر نکل کر سرکاری اعلان کی سطح پر پہنچ گئی۔
موساد کے فارسی پیج، انتہائی بے شرمی کے ساتھ، عوام کو سڑکوں پر موجود رہنے کی دعوت دی اور لکھا: "وقت آ گیا ہے… ہم آپ کے ساتھ ہیں؛ نہ صرف دور سے، بلکہ میدان میں۔"
صہیونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے، "آپ تنہا نہیں ہیں" کے پیغام کے ساتھ، اسی رویے کو جاری رکھا۔
آخر کار، ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر کھلم کھلا اعلان کیا کہ اگر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ساتھ نمٹا گیا، تو امریکہ "کارروائی کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔"
یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر سید محمد حسینی نے فارس سے گفتگو میں کہا: "یہ تسلسل، اتفاقی نہیں ہے۔ اگست میں رہبر انقلاب کے انتباہ سے لے کر دسمبر اور جنوری کے واقعات تک، ایک براہ راست دھارا سرگرم ہے؛ ایک ایسا دھارا جو بتا رہا ہے کہ دشمن، سخت جنگ میں ناکامی کے بعد، ادراکی، سیکورٹی اور سماجی جنگ کی جانب مڑ گیا ہے۔ جو کچھ آج رونما ہو رہا ہے، اسی تجزیے کی عینی مثال ہے جو رہبر انقلاب نے پیش کیا تھا؛ بیرونی عوامل اور کمانڈ رومز پر براہ راست انحصار کے ساتھ داخلی اختلاف ڈالنے کا منصوبہ۔"
سیکورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے منظر میں، "عوام کے معاشی مطالبات" اور "ہنگامہ آرائی کے منصوبے" کے درمیان فرق کی اہمیت دوہری ہو جاتی ہے۔ تاجروں اوردکانداروں نے واضح طور پر ہنگامہ آرائی سے اپنی دوری اور علیحدگی کا اعلان کر کے، عملی طور پر واضح کیا کہ ایرانی معاشرہ، دشمن کے حساب کتاب کے برعکس، ابھی بھی پہچاننے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جو منصوبے کو اس کے ڈیزائنرز کے لئے مہنگا، اور ناکام بنا دیتا ہے۔
اسی تناظر میں بین الاقوامی امور کے ماہر اور اسٹراٹیجسٹ "ڈاکٹر مصطفیٰ خوش چشم" احتجاج، ہنگامہ آرائی اور تشدد آمیز اقدامات کے درمیان فرق کے قائل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ: "پرامن احتجاج کا پتھراؤ، گولی چلانے، مسلح حملہ اور منظم تنازع سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور ان سطحوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملانا چاہئے۔ ان رویوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی تعریف، اپنے اپنے نتائج اور اپنا اپنا جواب ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد رضا دہقان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ