9 جنوری 2025 - 10:22
اہم ترین فریضہ امید کو زندہ رکھنا ہے/ مسلم ذرائع ابلاغ امریکی طاقت کا وہم توڑ دیں، امام خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے قم کے ہزاروں باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: امید کا چراغ لوگوں کے دلوں میں روشن رکھنا، فریضہ ہے / امریکہ ابھی تک بڑی طاقت ہونے کے وہم میں مبتلا ہے اور مسلم ذرائع ابلاغ کو اس کے اس وہم کو توڑنا ہوگا / مختلف قسم کے واقعات مسئلۂ فلسطین کی دھندلاہٹ کا سبب نہیں بننا چاہئے / مقاومت زندہ ہے، اور اسے روزبروز زیادہ طاقتور ہونا چاہئے؛ ہم غزہ میں، مغربی کنارے میں، لبنان میں، یمن میں اور ہر اس جگہ اور ہر نقطے [پر اس قوت] کی حمایت کرتے ہیں جہاں صہیونیوں کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہو/ امریکیوں کے غلط اندازے، 46 برسوں سے جاری ہیں اور 9 جنوری کے سلسلے میں غلط تجزیے ان کے مسلسل غلط اندازوں کا نقطۂ آغاز تھے / ایک دن پابندیوں کے نقصانات کا حساب بھی لیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے 9 جنوری 1978ع‍ کو قم کے عوام کے قیام کے موقع پر ہزاروں قمیوں سے ـ جو دیدار کے لئے حسینیۂ امام خمینی(رح) میں آئے تھے ـ خطاب کرتے ہوئے 9 جنوری کے قیام سے سبق لینے پر زور دیا اور مسلم ذرائع ابلاغ اور سائبر اسپیس کے فعال کارکنوں کو تاکید کی کہ رائے عامہ کا تحفظ کریں اور دشمن کی بڑی طاقت ہونے کے وہم و تصور کا پردہ پھاڑ دیں؛ ذمہ دار افراد ہر اقتصادی اور ثقافتی میدان میں ملک و قوم کے مفادات کو مقدم رکھیں؛ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اقتصادی اور غیر اقتصادی اہداف کے حصول کی طرف امید اور کوشش کے ساتھ اپنی قومی حرکت کو جاری رکھیں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای (مد ظلہ العالی) نے فرمایا: 9 جنوری 1978ع‍ کے دن قم کے مؤمن اور شجاع عوام کا قیام ایرانی تاریخ کی چوٹیوں میں سے ہے اور تمام ایام اللہ کی طرح اسباق اور عبرتوں کا حامل ہے اور اس کا اہم ترین سبق یہ ہے کہ ہم دیکھ لیں کہ امریکہ کس طرح کے "ایران" کو پسند کرتا اور کس طرح کے "ایران" کی آرزو رکھتا ہے۔

- اس وقت کے امریکی [آنجہانی] امریکی صدر جمی کارٹر نے 31 دسمبر 1977ع‍ کو تہران کا دورہ کیا اور محمد رضا [شاہ] کی جھوٹی تعریفیں کیں اور "پہلوی ایران" کو "جزیرہ استحکام" قرار دیا۔ 1977ع‍ کا ایران، جسے کارٹر امریکہ کا پسندیدہ ایران، سمجھتا تھا، خارجہ پالیسی کے لحاظ سے مکمل طور پر امریکہ کا پیرو، امریکیوں کے مفادات کا محافظ تھا اور اندرون ملک پالیسیوں کے لحاظ سے شاہ کے تمام مخالفین یا حکومت سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو شدت سے کچلا جاتا تھا، اقتصادی لحاظ سے، تیل بیچ کر، بہت بڑی رقم کماتا تھا لیکن معاشرہ شدت کے ساتھ طبقوں میں بٹا ہؤا تھا، علم اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انتہائی پسماندہ تھا اور ثقافتی لحاظ سے ایسا ملک تھا جہاں ہر روز مغربی فحاشی اور عریانی اور بے حیائی، اس میں فروغ پا رہی تھی۔

- 9 جنوری کے قیام نے امریکیوں کا پسندیدہ ایران، ان کے ہاتھوں سے خارج کر دیا لیکن امریکہ بدستور اسی ایران کا آرزومند ہے، لیکن جس طرح کہ کارٹر یہ آرزو اپنے ساتھ قبر میں لے گیا، باقی امریکی بھی اسے قبر میں لے جائیں گے۔

- 9 جنوری کے قیام کا دوسرا درس یہ ہے کہ امریکی غلط اندازوں کو آشکار کیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ امریکی ایران کے حقائق کے ادراک سے عاجز ہے۔

- جو لوگ امریکی کی ظاہری شکل و صورت کے شیدائی ہوجاتے ہيں اور اللہ کی عظمت اور ملت ایران کو بھول جاتے ہیں، انہیں اس نکتے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صرف کارٹر کی طرف سے [31 جنوری 1977ع‍ کو] "جزیرہ استحکام" کی تعریف و تحسین کے صرف 9 دن بعد، پیشرو قمیوں کے قمیوں نے ثابت کیا کہ امریکہ ایران کے مسائل سمجھنے میں کتنا پسماندہ اور کتنا غافل ہے۔

- گویا ایران اس زمانے میں "استکبار کا اہم ترین" مورچہ تھا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اسی مورچے کے اندر سے نمودار ہوئی، اور یہ حقیقت قصر فرعونی میں حضرت موسیٰ (علیٰ نبینا و آلہ و علیہ السلام) کی پرورش سے مماثلت رکھتی ہے۔ امریکی سوتے رہے اور اسلام کا عظیم ترین انقلاب ان کے مفادات کے مستحکم قلعے کے اندر سے ابل پڑا؛ جیسا کہ فرعون بھی غافل تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسی گھر میں نشو و نما پا رہے ہيں اور پروان چڑھ رہے ہیں۔

- گویا ایران اس زمانے میں "استکبار کا اہم ترین" مورچہ تھا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اسی مورچے کے اندر سے نمودار ہوئی، اور یہ حقیقت قصر فرعونی میں حضرت موسیٰ (علیٰ نبینا و آلہ و علیہ السلام) کی پرورش سے مماثلت رکھتی ہے۔ امریکی سوتے رہے اور اسلام کا عظیم ترین انقلاب ان کے مفادات کے مستحکم قلعے کے اندر سے ابل پڑا؛ جیسا کہ فرعون بھی غافل تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسی گھر میں نشو و نما پا رہے ہيں اور پروان چڑھ رہے ہیں۔

- امریکہ کی اندازے اور تخمینے لگانے کی مشینری کی غلطیوں کا سلسلہ گذشتہ 46 برسوں سے جاری ہے اور جو لوگ امریکی پالیسیوں سے مرعوب ہیں، انہیں مزید مرعوب نہیں ہونا چاہئے اور امریکی ریاست کے اس بنیادی اور جاری ساری کمزوری کی طرف زیادہ توجہ دیں۔

- امریکہ ملت ایران کے خلاف مسلسل غلط اور لاحاصل پالیسیوں پر کاربند رہا ہے جن میں سے ایک پالیسی اقتصادی پابندیوں سے عبارت ہے۔ انہوں نے پابندی لگائی اور مقصد یہ متعین کیا کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے لیکن ملت ایران نے پابندیوں کے دوران سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زبردست ترقی کی اور اس کے تیار نوجوان ہر شعبے میں، میدان میں آئے۔

- یہ البتہ درست ہے کہ پابندیوں نے ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا لیکن ان کے اہداف و مقاصد حاصل نہ ہو سکے اور ان شاء اللہ ملت ایران ایک دن ان نقصانات کا حساب بھی لے گی۔

- اسلامی انقلاب کی کامیابی استکبار کی کنکریٹ کی دیوار میں دراڑ پڑنے اور مغربی حصار کے متزلزل ہونے کا سبب بنی اور 9 جنوری کے قیام کا ایک سبق یہ ہے کہ ہم رائے عامہ کو دشمن کی تشہیری مہم کے مقابلے میں محفوظ بنائیں۔

- 7 جنوری 1978ع‍ کو کے ایک اخبار نے امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے خلاف ایک توہین آمیز مضمن شائع کیا جو کہ پہلوی حکومت اور امریکہ کی طرف سے سافٹ ویئر اوزار کو بروئے کار لانے کا ایک نمونہ تھا۔ وہ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے "ذوالفقارِ زبان" کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے جو کہ لوگوں امید اور حرارت دلاتی تھی لیکن قمیوں نے اپنی ہوشیاری اور بصیرت سے، اور امریکیوں اور پہلوی کی تشہیری مہم پر پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنایا۔

- امریکی آج اپنے سخت اقدامات کے استحکام کے لئے اس زمانے کے مقابلے میں، ہزاروں گنا زیادہ وسیع پیمانے پر، تشہیری مہم کے سافٹ ویئر کو بروئے کار لا رہا ہے۔ غزہ میں انہوں نے [ہارڈویئر اوزاروں کا استعمال کرکے] دسوں ہزار انسانوں کا قتل عام کیا اور سافٹ ویئر اوزاروں سے اس کو نہ چھپا سکے۔ لبنان میں انہوں نے سید حسن نصر اللہ اور دوسرے شہید کمانڈروں کو شہید کیا لیکن حزب اللہ ختم نہیں ہوئی اور ختم نہیں ہوگی۔

- تبیین (تشریح) اور تبلیغ بہت اہم وسیلہ ہے، دشمن جھوٹ پھیلا کر لوگوں کی سوچ اور تصور کو حقائق سے دور رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لئے مختلف روشوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے کوشاں ہے۔ اور آج ریڈیو اور ٹیلی وژن اور متعلقہ تبلیغی اور ترویجی اداروں اور سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا کے فعال کارکنوں کو چاہئے کہ دشمن کے طاقت [ہونے] کے تصور اور توہم کا پردہ پھاڑ دیں اور رائے عامہ کو ان جھوٹی تشہیری مہمات، دھمکیوں، خطروں اور تحریفات سے محفوظ بنائیں۔

- استکبار کی ذات اور حقیقت میں، ماضی کے مقابلے میں، کوئی فرق نہیں آیا ہے، کوئی بھی یہ تصور نہ کرے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست ماضی سے مختلف ہیں البتہ یہ درست ہے کہ ان کی روشیں اور وسائل اور اوزار ہزاروں گنا زیادہ متنوع اور وسیع تر ہوچکے ہیں جن کے مقابلے میں ہمیں بھی ہزاروں گنا زیادہ ہوشیار اور باریک بین ہونا چاہئے۔

- یقینا رائے عامہ کو محفوظ بنانا بہت ضروری ہے، اس قضیئے کی کنجی یہ ہے کہ "دشمن کی بات" کا بھروسہ نہ کریں، جان لیں کہ دشمن جو کچھ اپنی تشہیری مہم میں رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لئے بیان کر رہا ہے، جھوٹ اور فریب ہے، اور ہم اس کو بے دھڑک مسترد کریں۔

- ایران اپنے بیش قیمت خداداد وسائل ـ بشمول قدرتی وسائل اور دنیا کے اوسط درجے سے برتر اور زیادہ ترقی یافتہ افرادی قوت، اور منفرد جغرافیائی محل وقوع اور جغرافیائی-سیاسی پوزیشن ـ کے بدولت دنیا میں تزویراتی چوٹی ہے۔ ایران تقریبا 80 سال قبل کئی عشروں تک امریکیوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اسلامی انقلاب نے اس ملک کو امریکیوں کے کنٹرول سے خارج کر دیا اور اسی وجہ سے وہ انقلاب اسلامی کے سلسلے میں اپنے ذائقے کی کڑواہٹ بھول نہیں پا رہے ہیں۔

- کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ یورپی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتی ہے اور ان کے سفارت خانے ایران میں موجود ہیں تو امریکیوں کے ساتھ مذاکرات اور تعلقات کی بحالی میں کیا حرج ہے؛ تو ان کا جواب یہ ہے کہ ایران انقلاب اسلامی سے پہلے امریکہ کی ملکیت تھا، اور انقلاب اسلامی نے اس عظیم سیاسی اور اقتصادی ثروت کو امریکیوں کے قبضے سے خارج کر دیا، چنانچہ انقلاب اسلامی سے ان کی دشمنی اور کینہ اونٹ کا کینہ ہے اور یہ یورپی ممالک سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

- ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ سے امریکیوں کی دشمنی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ گذشتہ 46 برسوں میں ایران کو واپس حاصل کرنے کے لئے بے انتہا اخراجات برداشت کرکے بھی ناکام رہے ہیں۔ امریکہ کو اس ملک میں شکست ہوئی ہے اور اس شکست کی تلافی کرنے کے لئے کوشاں ہے؛ جنانچہ وہ جہاں تک ممکن ہو ایرانی عوام کے ساتھ دشمنی کرے گا۔

- استکبار ـ اور اس کی چوٹی پر امریکی حکومت ـ کا دنیا کے ممالک، منجملہ اسلامی جمہوریہ کے ذمہ داروں، سے ایک تقاضا یہ ہے کہ وہ مختلف مسائل میں منصوبہ بندیوں کے دوران امریکی مفادات کو ملحوظ رکھیں حالانکہ اگر اس بے جا امریکی توقع کی رعایت کی جائے تو اس سے ملکی جمہوریت کو تباہ کن خطرات لاحق ہوتے ہیں؛ عوام نے اپنے حکام کو ووٹ دیا ہے اس لئے کہ ان [عوام] کے مفادات کی تکمیل کریں، نہ کہ امریکی مفادات کی؛ چنانچہ افراط زر، پیداوار، اور حجاب سمیت باقی ثقافتی مسائل کے حوالے سے صرف اور صرف ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ کے مفادات کو پیش نظر رکھیں اور کسی صورت میں بھی امریکہ اور صہیونیوں کے مفادات کو ملحوظ نہ رکھیں؛ کیونکہ وہ ہماری قوم اور اسلامی جمہوریہ کے ہٹ دھرم ترین اور بدترین دشمن ہیں، اور ان کی آرزو ایران کی تباہی ہے۔

- خوش قسمتی سے، صہیونی ریاست کے سلسلے میں ہمارے محترم صدر جمہوریہ کے صریح اور دلیرانہ موقف نے لوگوں کے دلوں کو شادماں کیا، لوگ مسرور و محظوظ ہوئے۔ انھوں نے انتہائی صراحت کے ساتھ، فیصل کن انداز سے صہیونی ریاست کے بارے میں بھی، امریکی اقدامات کے بارے میں بھی اور صہیونیوں کے تئیں امریکی حمایت کے بارے میں بھی فیصلہ کن موقف اختیار کیا؛ یہ بہت خوب ہے۔ ملکی حکام کو خیال رکھنا چاہئے، اس سلسلے میں خیال رکھیں سب، اور ایسے لوگوں کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں جو انتہائی شدت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ اور ملت ایران کے بدترین دشمن ہیں، اور "ویران شدہ ایران" کی آرزو رکھتے ہیں۔

آس اور امید کی اہمیت اور فتح کی نوید

- اگلا مسئلہ "امید" ہے؛ ہمیں اللہ کی ہدایت کے حوالے سے پُر اُمِّید ہونا چاہئے، اللہ کی مدد کی امید رکھنا چاہئے، اس طاقت کے حصول کی امید رکھنا چاہئے جو اللہ نے اقوام کو عطا کی ہے۔ اس کے برعکس دشمن کا کام ہے جو ہمارے جوانوں کے دلوں کو امید سے خالی کرنا چاہتا ہے، انہیں مایوس کرنا چاہتا ہے؛ چنانچہ وہ تمام افراد جن کا تبلیغ و تشہیر کے میدان میں کوئی سننے والا ہے [اور ان کی بات سنی جاتی ہے]، جو بات کر سکتے ہیں، بولتی زبان کے مالک ہیں، ان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ دلوں میں امید کا چراغ روشن کریں [اور روشن رکھیں] اور نا امید کرنے والی بات اپنی زبان پر جاری نہ کریں۔ یہ وہ کام تھا جس کو امام بزرگوار (رضوان اللہ علیہ) بہت توجہ دیتے تھے۔ دیکھ لیجئے کہ اسی 9 جنوری کے واقعے ميں، 9 جنوری کو یہ واقعہ رونما ہؤا، اور قم کا قیام کچل دیا گیا؛ لوگ زخمی ہوئے، شہید ہوئے، انہوں نے [یعنی پہلوی کے گماشتوں نے] سڑکوں کو خون سے رنگین کر دیا؛ یہ 9 جنوری کی بات ہے۔ امام (رضوان اللہ علیہ) کا پیغام اس کے 12 دن بعد 22 جنوری کو نجف سے آیا؛ میں نے امام کے اس پیغام کو یادداشت کیا ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا: "میں ملت ایران کو اس بیداری اور ہوشیاری اور اس طاقتور عزم و حوصلے اور عدیم المثال شجاعت پر، فتح کی نوید دیتا ہوں"۔ [1] عوام کو قم کی سڑکوں پر کچل دیا گیا، کس کو فتح و کامیابی کا گمان تھا؟ امام فرماتے ہیں "میں آپ کو فتح کی نوید دیتا ہوں! امام بشارت دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے اس کام سے اور اپنے اس اقدام سے، ایران کو تہہ و بالا کر دیا، آپ نے دنیا کی پالیسیوں کو بدل ڈالا۔ یہ، امام کی فتح کی نوید ہے۔

اس زمانے میں کون یقین کر سکتا تھا کہ یہ اقدام [آگے جاکر] اس نقطے تک پہنچے کہ خطے میں اسلامی جمہوریہ جیسی پیشرو اور رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھنے والی اس خطے میں ابھر آئے جو ـ جہاں تک ممکن ہو ـ مغرب کے خباثت آلود عزائم اور اہداف میں خلل ڈال دے، اور رکاوٹ بنے، بہت سی جارحیتوں کا سد باب کرے، بہت سی پالیسیوں کا سد باب کرے، کون یقین کرے گا۔ اس دن کون یقین کر سکتا تھا کہ وہ دن بھی آئے گا کہ جب امریکی پرچم کو مغربی ممالک میں نذر آتش کیا جائے، حتی کہ خود واشنگٹن میں نذر آتش کیا جائے؟ کون تصور کر سکتا تھا؟ اس نے امام نے فرمایا کہ "میں آپ فتح کی نوید دیتا ہوں"۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم کبھی بھی امید کا چراغ گل نہ ہونے دیں۔

- آج اسی اقتصادی مسئلے میں بھی ـ کہ مثلا ہمیں اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے ـ وہ لوگ جو اگاہ ہیں، مُطَّلِع ہیں، ماہر ہیں، وہ مستقبل کو بالکل روشن دیکھتے ہیں۔ فرض کریں کہ پالیسیوں میں جب کہا جاتا ہے کہ ہمیں آٹھ فیصد اقتصادی نمو تک پہنچنا ہے، تو کچھ لوگ کچھ ایسی باتیں کر تے ہیں جن سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ملک کے اقتصادی کارکنوں کی نمائش منعقد ہوئی اور صدر محترم بھی نمائش میں حاضر ہوئے، تو اقتصادی کارکنوں نے کہا اور ثابت کیا، اور صدر نے بھی ان ہی کی باتوں کو دہرایا، انہوں نے کہا: "ہم بیرونی قوتوں کے احتیاج کے بغیر، آٹھ فیصد اقتصادی نمو تک پہنچنے یقین دہانی کراتے ہیں"۔  چنانچہ ہمیں تمام میدانوں میں پرامن ہونا چاہئے؛ البتہ امید، کوشش اور محنت کے بغیر، بے معنی ہے۔ چنانچہ ہمیں پُر اُمِّید رہنا چاہئے اور محنت کرنا چاہئے؛ ترقی کے لوازمات پر عملدرآمد کرنا چاہئے؛ ہمیں پُر اُمِّید ہونا چاہئے کہ اور جان لینا چاہئے کہ ہم چاہتے کیا ہیں، اور کس انداز سے اس کی طرف آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ ہے پُر اُمِّید ہونے کا مطلب۔

- آخری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مختلف قسم کے واقعات ـ خواہ وہ ہمارے واقعات ہوں، خواہ شام کے واقعات جیسے علاقائی واقعات ہوں ـ کو ہرگز ہماری یادوں میں [اور ہمارے دل و دماغ میں] مسئلۂ فلسطین کی دھندلاہٹ کا سبب نہیں بننا چاہئے۔ مقاومت و مزاحمت کا بنیادی عنصر، صہیونی ریاست کے خباثت آلود عزائم کے خلاف مقاومت ہے۔ مقاومت یہ ہے۔ مقاومت زندہ ہے، اور اسے زندہ رہنا چاہئے اور اس کو روزبروز زیادہ قوی اور طاقتور ہونا چاہئے؛ اور ہم مقاومت کی حمایت کرتے ہیں، غزہ میں مقاومت کی، [دریائے اردن کے] مغربی کنارے میں مقاومت کی، لبنان میں مقاومت کی، یمن میں مقاومت کی [ہر حال میں حمایت کرتے ہیں]۔ ہم ہر جگہ اور ہر نقطے [پر اس قوت] حمایت کرتے ہیں جہاں صہیونیوں کے مقابلے میں مزاحمت اور استواری پائی جاتی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ 1۔ صحیفہ امام، ج3، ص316؛ امام کا پیغام نو جنوری 1978 کو قم کے عوام کے قیام کے سلسلے میں امام کا پیغام اور فتح کی نوید"، 22 جنوری 1978۔