29 جنوری 2026 - 19:35
حصۀ سوئم | عالمی مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہیں، امریکہ غلام پروری اور نسل کشی پرقائم ہؤا ہے، ایرک والبرگ

نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک والبرگ کہتے ہیں: "غلام پروری" (Slavery)، نسل کشی اور جنگ کی بنیاد پر قائم ہؤا ہے جس سے، اس سے بہتر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ مغرب میں ـ دنیاوی بقاء کی پاسداری کے لئے ـ بہت دانشوروں اور مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

کینیڈین نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک  رالبرگ نے اس سیمینار کے مقالہ نگار کے طور پر اپنے مقالے کے دوسرے حصہ میں لکھا:

دوسرا مسئلہ جس پر میں ـ امریکی استعمار کے بارے میں ـ مرکوز ہونا چاہتا ہوں، وہ سنہ 1975ع‍ میں کمبوڈیا [جو اس زمانے میں کمپوچیا کہلاتا تھا] کی حکومت کی کایا پلٹ اور امریکہ کے پس پردہ کردار ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک اچھی کتاب کا تعارف کرانا چاہتا ہوں جس کو آپ میرے مقالے میں بھی دیکھ سکتے ہیں اور انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

اس کتاب میں، انسانی تہذیب میں رونما ہونے والے 100 واقعات کی فہرست درج کی گئی ہے۔ اس کتاب میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کونسا واقعہ سب سے زیادہ انسانوں کے قتل کا باعث ہؤا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 100 المیوں میں دوسری عالمی جنگ 65ویں نمبر پر مندرج ہے؛ یعنی ایک لحاظ سے یہ جنگ فہرست کے دوسرے حصے میں درج ہوئی ہے۔ لیکن بہر حال بہت وحشتناک ہے، لیکن اس کے مقابلے میں کمبوڈیا کا المیہ 39ویں نمبر پر ہے۔ چنانچہ یہ یہ امریکہ کی خانہ جنگی سے کہیں زیادہ المناک ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جتنا طاقتور بنتا ہے اس سے متعلق المیئے بھی اتنے ہی زیادہ جارحانہ، زیادہ شدید اور زیادہ شدید اور المناک تر ہوجاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات میں اتنا ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔ 

چنانچہ کتاب " The GREAT BIG BOOK of HORRIBLE THINGS: The DEFINITIVE CHRONICLE of HISTORY'S 100 WORST ATROCITEIES" میں سنہ 1975ع‍ کے کمبوڈیا کا نمبر 39واں ہے۔ اس دور میں سرخ پول پوٹ (Pol Pot) کی قیادت میں کمبوڈیا کی آمریت نے ـ سرخ خمیریوں (Khmer Rouge) کی مدد سے ـ کمبوڈیا کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا [اور ملک کی 70 لاکھ آبادی میں سے 20 لاکھ کی ہلاکت کے اسباب فراہم کئے]۔ اس کی سرخ خمیری تنظیم سنہ 1970ع‍ میں امریکیوں نے قائم کی تھی۔ امریکیوں نے امن پسند اور ہر دلعزیز بادشاہ نورودوم سہانوک (Norodom Sihanouk) کا تختہ الٹ دیا۔ امریکیوں نے ان کا تختہ اس لئے الٹ دیا کہ وہ ویتنام پر بمباری کی اجازت نہيں دے رہے تھے۔ امریکی کمبوڈیا میں ایک اڈہ قائم کرنا چاہتے تھے تاکہ ویتنام کو آسانی سے کارپٹ بمباری کا نشانہ بنا سکیں۔ لیکن سیہانوک نے کہا: "ویتنام ہمارا ہمسایہ ملک ہے؛ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے تعلقات اس کے ساتھ اچھے نہ ہوں، چنانچہ ہم ایسا نہیں کر سکتے؛ اور تمہاری جنگ میں ہم غیر جانبدار ہیں۔" چنانچہ امریکیوں نے اس امن پسند سلطنت کو گرا دیا اور اس ملک میں مداخلت کی اور جب [امریکہ] سنہ 1975ع‍ میں اس ملک سے نکل رہا تھا تو یہ ملک بالکل کھنڈر اور زوال پذیر ہو چکا تھا اور پول پوٹ ـ امریکیوں کا "بھائی نمبر 1" اور ایک پاگل قوم پرست اور مائو کے ثقافتی انقلاب کا کٹر حامی ـ برسر اقتدار تھا جس نے مائو قسم کی نسل کشی کو بدترین شکل میں دہرایا۔ The GREAT BIG BOOK میں مائو کا نمبر "2" ہے اور کہا گیا ہے کہ صرف دوسری عالمی جنگ نے مائو سے زیادہ لوگوں کو قتل کر دیا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بیسویں صدی عیسوی انتہائی ہولناک واقعات کی صدی ہے۔

چنانچہ مائو اور امریکہ کی مشترکہ میراث نے باہم، کمبوڈیا میں وسیع پیمانے پر اجتماعی قتل، قحط اور بھکمری کے اسباب فراہم کر دیا اور اس ملک کی ایک تہائی آبادی ـ یعنی 20 لاکھ افراد ـ جان سے گئی۔ امریکہ اور چین نے اس کے بعد تقریبا مزید 20 سال کے عرصے یعنی 1993 تک پول پوٹ کی حمایت جاری رکھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "امریکی [طرز کی] آزادی کا مطلب کیا ہے؟"، بہت غم انگیز ہے یہ آزادی۔

اور ہاں! یہ صورت حال بہت ہی شباہت رکھتی ہے ان طعنوں سے جو آج کا امریکہ یورپی یونین کو اور آج کے روس کو اور یورپی یونین کو دے رہا ہے؛ بالکل اسی طرح، جس طرح کہ وہ ویتنام پر لعنت ملامت کرتا تھا۔

امریکیوں نے ویتنام پر امپریلزم کا الزام لگایا، کیونکہ ویتنام کمبوڈیا میں داخل ہؤا اور پول پوٹ کا تختہ الٹ دیا؛ اور خوش قسمتی سے اس وحشتناک نسل کشی کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن امریکہ اور یورپی یونین نے ویتنام کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اس ملک پر اپنی پابندیاں جاری رکھیں؛ جس طرح کہ امریکہ اور یورپی اتحاد آج روس پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ روس یوکرین میں "نسل کشی" کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔ گوکہ یوکرین میں نسل کشی نہیں ہوئی لیکن اگر روس مداخلت نہ کرتا تو یہ نسل کشی انجام پا سکتی تھی؛ کیونکہ یوکرین کی حکومت روسی زبان بولنے والے یوکرینیوں کا صفایا کرنا چاہتی تھی اور یوں یوکرین کی نصف آبادی کا قتل عام ہو سکتا تھا کیونکہ اس ملک کی آدھی زبانی روسی نژاد ہے۔ یعنی یہ کہ صورت حال یہ تھی کہ روس نے حملہ کیا۔

اس مسئلے کا بیان میرے لئے بہت دردناک ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ نسل کشی میری آنکھوں کے سامنے جاری ہے؛ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا ملک "کینیڈا اس نسل کشی کے بدترین حامیوں میں سے ایک ہے۔ کینیڈا میں ایک بڑی فاشست یوکرینی آبادی مقیم ہے۔ اور ہمارے راہنماؤں ـ سابق وزیر ا‏عظم "جسٹن ٹروڈو" (Justin Pierre James) اور موجودہ وزیر اعظم "مارک کارنی" (Mark Joseph Carney) نے اربوں ڈالر کی رقم اس جنگ میں جھونک دی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha