بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جنوری 2026 میں جنوبی امریکہ میں تیز رفتار پیش رفت اور تمام سفارتی روایات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے برعکس، وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری، محض ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا زلزلہ ہے جس کے جھٹکے، گویا قطبِ شمالی کے منجمد پانیوں تک پھیل چکے ہیں۔
اب یورپی دارالحکومتوں، خاص طور پر کوپن ہیگن میں، یہ خوفناک سوال سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے کہ "کیا ٹرمپ نے وینزویلا کے بعد اپنی نظر شمالی یورپ پر گاڑھ دی ہے اور وہ دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کو امریکہ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟"، یعنی جو بات کبھی ایک "غیر معمولی جائیداد کا معاملہ" سمجھی جاتی تھی، آج گرین لینڈ کے لیے ایک خصوصی ایلچی کے تقرر اور واشنگٹن کے جارحانہ بیان بازی میں اضافے کے باعث ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کے خلاف ایک وجودی خطرہ بن چکی ہے۔
"گرین لینڈ، ترامپ کے نئے علاقائی قبضے کے نظریے کا اگلا ہدف" کا خلاصہ درج ذیل ہے:
* بنیادی مسئلہ
• مضمون کا دعویٰ ہے کہ رہبر انقلاب کے بیان اور ونزویلا میں مداخلت کے بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک نئے علاقائی توسیع پسندانہ نظریے پر عمل پیرا ہے، جس کا اگلا ہدف گرینلند ہو سکتا ہے۔
* کلیدی نکات
* پس منظر
• ونزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ایک "آپریشنل ماڈل" کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے ٹرمپ کی جانب سے "زیادہ سے زیادہ دباؤ" سے "براہ راست کارروائی" تک تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔
گرین لینڈ کا معاملہ
• ٹرمپ نے گذشتہ اقدامات کی طرح، گرین لینڈ کے لئے خصوصی ایلچی مقرر کر کے اور فوجی طاقت کے استعمال سے انکار نہ کرکے، اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ چین اور روس کے خوف کی بنا پر، اور اس کے معدنی وسائل کی خاطر، گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔
* ممکنہ حالتیں
* مضمون میں چار ممکنہ آگلی حالتیں بیان کی گئی ہیں:
1۔ فوجی قبضہ یا جبراً الحاق۔
2۔ اقتصادی بلیک میلنگ (تجارتی جنگ)۔
3۔ گرینلند میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینا۔
4۔ ڈنمارک کا دباؤ میں آ کر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے بڑے حقوق امریکہ کو دینا۔
* اقوام کا موقف:
• ڈنمارک اور گرینلند نے اسے شرمناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
• یورپی یونین نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
• روس نے کہا ہے کہ "امریکی آمریت" موقع پرستی سے کام لے رہی ہے۔ ماسکو نے اس امریکی رویے پر سخت تنقید کی ہے۔
تاہم ٹرمپ کی ٹیم (جیسے جیف لینڈری) کھلے عام الحاق کی حمایت کر رہی ہے۔
* نیا عالمی نظام؟
مضمون کے مطابق، اگر ٹرمپ گرینلند پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر عالمی نظام کے خاتمے اور "طاقت بطور حق" کی حکمرانی کے آغاز کی علامت ہو گا۔
خلاصہ یہ کہ یہ مضمون، امریکہ کے طرف سے وینزوویلا میں کئے گئے اقدامات کے تناظر میں، گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات و اقدامات کو ایک نئے علاقائی توسیع پسندانہ نظریئے کا حصہ قرار دیتا ہے، جس کے سنگین سیاسی، فوجی اور قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قیس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ