اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، چین اور پاکستان نے اپنی ساتویں اسٹریٹجک بات چیت میں عالمی سطح پر قلدرمابانہ رویوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے باہمی تعاون، مشترکہ اقتصادی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت بھی دہرائی۔
یہ بات چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستانی ہم منصب سناتور محمد اسحاق دار کی شرکت میں پکن میں ہونے والی بات چیت میں سامنے آئی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، دفاع، سلامتی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کے علاوہ ثقافتی اور عوامی تبادلوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط کرنے، اعتماد بڑھانے اور خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے ایک چین پالیسی کے مکمل تحفظ اور کسی بھی قسم کی علیحدگی کی کوشش کے خلاف اپنے موقف کی تصدیق کی اور چین کے اندرونی امور جیسے سنکیانگ، شیزانگ، ہانگ کانگ اور جنوبی بحر چین میں چین کے موقف کی حمایت کی۔ چین نے بدلے میں پاکستان کے خودمختاری، سالمیت اور ترقیاتی کوششوں کی حمایت کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
دونوں ممالک نے فضائی تحقیق اور پاکستان کے خلا بازوں کے چین میں تربیتی پروگرام کی توسیع پر بھی اتفاق کیا اور تعاون کو پرامن اور اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے مفید قرار دیا۔ اس کے علاوہ افغانستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ تین طرفہ تعاون کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی گئی۔
چین اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری اور بین الاقوامی سطح پر طاقت کے ناجائز استعمال اور چھوٹے بلاکس بنانے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خاتمے اور خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
فلسطینی مسئلے پر، دونوں ممالک نے غزہ میں فوری، جامع اور مستقل جنگ بندی کی حمایت کی اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔ انہوں نے مغربی کنارے میں فوری اقدامات کی ضرورت اور خلیج میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی توجہ دلائی۔
آپ کا تبصرہ