26 جنوری 2026 - 13:39
یورپ گرین لینڈ کو ٹرمپ سے کیونکر نجات دلا سکے گا؟

ایک یورپی سفارتکار نے جمعرات (8 جنوری 2026) کے دن پولیٹیکو سے کہا کہ یورپی یونین "ٹرمپ سے براہ راست تصادم" کی تیاری کر رہی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پولیٹیکو کے کہنے کے مطابق، یورپی پالیسی ساز شدت کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے کے درپے ہیں، اور یورپی اس سے قبل نہیں تھے کہ ٹرمپ گرین لینڈ کو ہتھیانے کے لئے سنجیدہ ہیں، اب وہ اس حقیقت سے واقف ہو گئے ہیں۔

اس جریدے نے سرکاری اہلکاروں، سفارت کاروں، ماہرین اور نیٹو میں بغض باخبر ذرائع، سے بات چیت کرنے کے بعد لکھا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے کے لئے چار ممکنہ حکمت عملیاں پائی جاتی ہیں۔

ایک سفارتکار نے ٹرمپ کے بارے میں براعظم امریکہ کے تصور کے بارے میں کہا: "ہمیں ٹرمپ سے براہ راست تصادم کے لئے تیار رہنا چاہئے، وہ حملے کی پوزیشن ہیں اور ہمیں مسلح اور تیار ہونا چاہئے۔"

گذشتہ دن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ گرین لینڈ پر امریکی ملکیت کے لئے اگلے ہفتے ڈنمارک کے حکام سے بات چیت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کی ترجیح یہ ہے کہ اس علاقے کو مذاکرات کے ذریعے حاصل کریں نیز اس علاقے کی خریداری کی تجویز بھی ہے لیکن اس پر فوجی قبضہ بھی ممکن ہے۔

ادھر ڈنمارک کے ایک سابق رکن پارلیمان کا کہنا تھا: "سب کو دھچکا لگا ہے، لیکن ہمارے ٹول باکس میں موجود اوزاروں سے بے خبر ہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کریں تو کیا کریں، کیونکہ امریکی جو کرنا چاہیں کر دیتے ہیں۔ لیکن ان سوالات کا فوری جواب دینے کی ضرورت ہے۔ وہ تین، یا پانچ یا سات سال تک منظر نہیں رہ سکتے۔"

یورپ گرین لینڈ کو ٹرمپ سے کیونکر نجات دلا سکے گا؟

سرکاری اہلکاروں، سفارت کاروں، ماہرین اور نیٹو میں بغض باخبر ذرائع نے جائزہ لیا ہے کہ یورپ کو امریکی صدر کو جنگ کی حد تک آگے جانے سے کیونکر روکا جاسکتا ہے، اور ان کے اقدام کی صورت میں یورپیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

ساز باز اور ٹرمپ کے ساتھ مصالحت

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ امریکی مفادات کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور وہ ڈنمارک پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے قطب شمالی میں چین اور روس کی بڑھتی ہوئی فوجی کاروائیاں روکنے کے لئے کافی شافی اقدامات نہیں کئے ہیں۔

چنانچہ ایک ایسا سمجھوتہ جس کی بنیاد پر ٹرمپ اپنے آپ کو فاتح کے طور پر متعارف کرائیں اور ساتھ ہی ڈنمارک اور گرین لینڈ کو بھی اپنی ساکھ بچانے کی اجازت دے، شاید اس بحران کا تیزرفتار ترین حل ہو!

نیٹو کے ایک سابق سینئر اہلکار نے تجویز دی ہے کہ یہ اتحاد (نیٹو) گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرے، وہی کردار جو اس نے اس اتحاد کے رکن ممالک ترکیہ اور یونان کے باہمی اختلافات کے سلسلے میں ادا کیا ہے۔

نیز نیٹو کے اتحادی بھی ٹرمپ کو دینے کے لئے نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں جو گرین لینڈ کی سلامتی کو مضبوط کریں گی، اگرچہ یہ خیال وسیع سطح پر موجود ہے کہ ٹرمپ کے یہ دعوے مبالغہ آمیز ہیں کہ گرین لینڈ کو روسی اور چینی بحری جہازوں کی طرف سے خطرہ لاحق ہے۔

ٹرمپ کہتے ہیں: میں گرین لینڈ کو تیل اور گیس کے ممکنہ عظیم ذخائر کی وجہ سے، چاہتا ہوں۔ لیکن ایسے شواہد موجود ہیں کہ گرین لینڈ ابھی تک ایک اچھوتا علاقہ ہے: اس علاقے کی زمین انتہائی ناہموار اور نامساعد ہے اور اس سے زیر زمین وسائل کا حصول بہت دشوار اور مہنگا ہے، اور یہ مسئلہ چین کے ساتھ مسابقت کو ناممکن بناتا ہے۔

گرین لینڈ اور امریکی دولت سے مالامال ہونے کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ نے گرین لینڈ کی خودمختار کی تحریک کی حمایت  کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ اگر یہ قطبی عملداری سلطنت ڈنمارک سے الگ ہوکر امریکہ سے جا ملے تو یہ امریکی پیسے سے مالامال ہو جائے گی!

لیکن یورپی اتحاد اور ڈنمارک کی کوشش ہے کہ وہ گرین لینڈ کے عوام کو باور کرائیں کہ وہ انہیں اس سے "بہتر سودے" کی تجویز دے سکتے ہیں!

یورپین کمیشن نے ستمبر 2025ع‍ میں ایک تجویز کا مسودہ شائع کیا جس کے تحت برسلز گرین لینڈ کے لئے اپنے اخراجات کو دو گنا کر دے گا۔ یہ اس طویل المدت بجٹ کا حصہ ہے جسے ڈنمارک کی عملداری پر ٹرمپ کے دعوے شروع ہونے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت، جو رکن ممالک کے درمیان مزید مذاکرات سے مشروط ہے، یورپی یونین گرین لینڈ میں اپنے اخراجات کو 2028 سے ـ ساتھ سالہ دور کے لئے ـ دو گنا کر دے گی اور اس علاقے پر سالانہ 530 ملین یورو خرچ کئے جائیں گے۔

گرین لینڈ کی خودمختاری کے حامی نمائندے "کونو فنکر" نے پارلیمان میں کہا: "ہمارے ہاں بہت زیادہ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، گرین لینڈ میں بنیادی ڈھانچے پسماندہ ہیں اور ہمارے قابل حصول قدرتی وسائل عوام کے لئے نہیں بلکہ کمپنیوں کے منافع کے لئے نکالے جاتے ہیں۔"

بہرحال ڈنمارک اور یورپی اتحاد کی طرف سے ایک دلکش تجویز گرین لینڈ کے عوام کو ٹرمپ کی تجاویز کی طرف راغب ہونے سے روک سکتی ہے۔

جوابی اقتصادی اقدام

یورپی اتحاد نے ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کی لالچ کا جواب دینے کے لئے ایک سیاسی-اقتصادی اوزار تیار کیا جو جبر کے خلاف اوزار ( Anti-Coercion Instrument)  کہلاتا ہے اور یورپی اتحاد اس اوزار کے ذریعے تجارتی امتیاز پر جوابی کاروائی کر سکتا ہے۔

یورپی اتحاد نے اس خطے پر ٹرمپ کے محاصل کے لاگو ہونے پر اس اوزار کو بروئے کار لانے کی دھمکی دی لیکن جولائی میں فریقین کے درمیان سمجھوتے کے بعد، اس اوزار پر عملدرآمد روک لیا؛ لیکن چونکہ امریکہ مذکورہ سمجھوتے کے باوجود وہی محاصل یورپ پر لاگو کر رہا ہے، لہذا یورپی اتحاد ایک بار پھر اس اوزار کو فعال کر سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گوکہ اس سے قبل یورپیوں کے تند و تیز بیانات لاحاصل رہے ہیں لیکن ٹرمپ کو جاننا چاہئے کہ اس بار یورپی اتحاد بہت سنجیدہ ہے!

خطے میں فوجی موجودگی

اگر امریکہ گرین لینڈ پر فوجی قبضہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یورپیوں کے پاس روکنے کے لئے آپشنز بہت کم ہیں۔

ڈنمارک کے رائل ڈیفنس کالج میں امریکی فوجی ماہر "تھامس کروسبی" نے ٹرمپ کے اس موقف کی طرف اشارہ کیا کہ "یورپیوں کو اپنی سلامتی کا تحفظ امریکہ کی حمایت کے بغیر یقینی بنانا چاہئے"، اور کہا: "یہ بہت مشکل ضرور ہے لیکن ممکن ہے۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یورپ میں 'امریکہ کے مقابلے میں' بھی، یورپ کی سلامتی کے تحفظ کو مد نظر رکھا ہو!"

کروسبی کہتے ہیں: "یورپی گرین لینڈ پر قبضے سے قبل، امریکیوں پر پیشگی حملہ نہیں کریں گے۔۔۔ لیکن اگر امریکہ ایک چھوٹے سے گروپ کو گرین لینڈ روانہ کرے، تو آپ [یورپی] انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کیونکہ ایک مجرمانہ اقدام رونما ہؤا ہے۔"

کروسبی مزید کہتے ہیں: "لیکن اگر امریکہ وسیع پیمانے پر فوجی موجودگی کا منصوبہ رکھتا ہو، تو قانونی لحاظ سے یہ امکان موجود ہے کہ ڈنمارک اس کا فوجی جواب دے۔ سنہ 1952 کے ایک مستقل حکم نامہ موجود ہے جس کے تحت، ڈنمارک کی افواج کو، اس ملک کی حدود پر کسی حملے کی صورت میں، فوری طور پر اور کسی بھی نئے حکم کا انتظآر کئے بغیر، جنگ کا آغاز کرنا چاہئے۔"

یورپی اتحاد کے ایک سفارت کار نے اس تجویز کی طرف اشارہ کیا ہے کہ "برلن اور پیرس اس خطے میں فوج بھیج سکتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا راستہ روک لیں"، اگر ڈنمارک فوجی مدد کی درخواست کرے تو رکن ممالک کو امریکی فوجی اقدام کی لاگت بڑھانے کے لئے، فوج بھیجنے کے امکان کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

اگرچہ بعید ہے کہ  یہ افواج امریکی حملے کے مقابلے میں مزاحمت کر سکیں؛ لیکن یہ اقدام ڈیٹرنس کے طور پر عمل کرے گا۔

کروسبی نے کہا: "گرین لینڈ میں فوجی موجودگی کی [یورپی] حکمت عملی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے؛ یہ ایک بالکل انجانی سرزمین ہے، لیکن یہ امکان قوی ہے کہ اس علاقے پر امریکی دعوے کو مسترد کرنے کے اس عمل میں جانی نقصانات کا امکان پایا جاتا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha