20 جنوری 2026 - 09:24
مآخذ: ابنا
 اتر پردیش کے شہر بریلی میں نجی گھر میں نماز پڑھنے پر 12 مسلم افراد حراست میں، جرمانہ عائد

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ایک نجی مکان کے اندر نماز ادا کرنے کے الزام میں 12 مسلم افراد کو حراست میں لے کر ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد نے “بغیر اجازت” مذہبی سرگرمی انجام دی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ایک نجی مکان کے اندر نماز ادا کرنے کے الزام میں 12 مسلم افراد کو حراست میں لے کر ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد نے “بغیر اجازت” مذہبی سرگرمی انجام دی۔

پی ٹی آئی کے مطابق، پولیس نے ان 12 افراد کے خلاف امن عامہ کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات کے تحت چالان کیا، جس کے بعد انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ مجسٹریٹ نے بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ساؤتھ) انشیکا ورما نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ محمد گنج گاؤں میں ایک خالی مکان کو عارضی طور پر مدرسے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا،
“کسی بھی نئی مذہبی سرگرمی یا اجتماع کو بغیر اجازت منعقد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ایسی سرگرمیاں دوبارہ ہوئیں تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر چند مسلم افراد کو اس مکان کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ ویڈیو کئی ہندوتوا اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی گئی، جن کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تبصرے بھی کیے گئے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ مکان حنیف نامی شخص کی ملکیت ہے اور اسے عارضی طور پر جمعہ کی نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس مقام پر کسی مستقل تعمیر یا ادارہ جاتی مذہبی سرگرمی کے شواہد نہیں ملے۔

اس واقعے کے بعد مسلم مذہبی آزادی اور پولیس کے رویّے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ ملک کے کئی حصوں میں مساجد یا مناسب نماز گاہوں کی کمی کے باعث نجی گھروں میں نماز ادا کرنا ایک عام عمل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں کو غیر ضروری طور پر مجرمانہ رنگ دینے کے مترادف ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha