اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، گجرات میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے دوران احمد آباد کے دروازہ–جمال پور اسمبلی حلقوں میں سینکڑوں مسلم ووٹروں کو مبینہ طور پر ’مردہ‘ قرار دے کر ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے نے ووٹروں کے منظم طور پر حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے اور انتخابی عمل کے سیاسی غلط استعمال کے سنگین الزامات کو جنم دیا ہے۔
یہ حذفیاں بنیادی طور پر داریہ پور اور جمال پور اسمبلی حلقوں کے مسلم اکثریتی علاقوں سے سامنے آئی ہیں، جہاں مقامی ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں، انہوں نے ایس آئی آر فارم بھرے تھے اور ابتدائی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ان کے نام موجود تھے، اس کے باوجود ان کے نام کاٹ دیے گئے۔
مقامی باشندوں اور رہنماؤں کے مطابق، ووٹروں کے خلاف فارم 7 کے ذریعے اعتراضات داخل کیے گئے، جو عام طور پر موت، نقل مکانی یا دہرا اندراج ہونے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الزام ہے کہ بی جے پی کارکنان نے یہ اعتراضات داخل کر کے مسلم ووٹروں کو جھوٹے طور پر مردہ ظاہر کیا۔
ایسا ہی ایک معاملہ عرب فرید میاں کا ہے، جو جمال پور اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 19 کے ووٹر ہیں (سیریل نمبر 823)۔ اگرچہ وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف یہ کہہ کر اعتراض داخل کیا گیا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ مقامی افراد نے نشاندہی کی کہ اعتراض میں درج ووٹر کارڈ نمبر بھی ان کے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتا۔
اسی طرح جمال پور کے وارڈ نمبر 21 میں رہنے والے میونسپل کونسلر رفیق شیخ قریشی کے خلاف پتہ تبدیل ہونے کا اعتراض داخل کیا گیا۔ تاہم اعتراض داخل کرنے والا شخص پنکج، مبینہ طور پر پارٹ نمبر 16 کا ووٹر ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر متعلقہ افراد کو اعتراض داخل کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔
رفیق قریشی نے مکٹوب سے کہا،ہم زندہ ہیں، ہم پہلے ووٹ ڈال چکے ہیں، اور اب نظام ہمیں بتا رہا ہے کہ ہمارا وجود ہی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا،میں ایک منتخب کونسلر ہوں۔ اگر یہ میرے ساتھ ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ صرف ووٹروں کا نام کاٹنا نہیں، بلکہ ان کا مٹایا جانا ہے۔
مائنارٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی (MCC) کے کنوینر مجاہد نفیس نے مکٹوب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات کا انداز ایک منظم کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ کوئی انتظامی غلطی نہیں ہے۔ یہ مسلم ووٹروں کو مردہ یا بے گھر ظاہر کر کے انتخابی فہرست سے باہر کرنے کی منظم کوشش ہے،” نفیس نے کہا۔بوتھ لیول افسران (BLOs) کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، صرف جمال پور کے کچھ علاقوں میں ہی تقریباً 300 فارم 7 اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ کارکنان کا اندازہ ہے کہ پورے جمال پور اسمبلی حلقے میں یہ تعداد 20 ہزار تک ہو سکتی ہے۔
نفیس نے کہا،ان ووٹروں نے ایس آئی آر فارم بھرے تھے، ان کے نام ابتدائی فہرست میں تھے، اس کے باوجود غیر متعلقہ افراد نے اعتراض داخل کیے، وہ بھی مختلف پولنگ حصوں سے۔ یہ نیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔”
ایم سی سی نے گجرات کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) کو باضابطہ عرضداشت پیش کرتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایسے اعتراضات کو بلا روک ٹوک قبول کیا گیا تو اس کا براہِ راست اثر اپوزیشن ووٹروں پر پڑے گا اور انتخابات کی شفافیت متاثر ہوگی،” نفیس نے خبردار کیا۔
احمد آباد میں کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنان نے بھی جھوٹے اعتراضات داخل کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتوار کو لوگوں کے ایک گروہ نے شاہ پور پولیس اسٹیشن میں درخواست دے کر ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے ووٹروں کے نام حذف کروانے پر اعتراض داخل کیے تھے۔
فی الحال گجرات میں ایس آئی آر عمل دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے میں ہے۔ انتخابی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ سول سوسائٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقلیتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ووٹر حذفیاں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ