عراقی مقاومت
-
قیس الخزعلی: عراق کے استحکام کے لیے ہتھیار ریاست کے پاس ہونا ضروری ہیں
عراق کی عصائب اہل الحق تحریک کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی نے کہا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے ہتھیار ریاستی اداروں کے پاس ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سیاسی رہنما اس عمل کو آگے بڑھانے کی سب سے بڑی ذمہ داری رکھتے ہیں اور رابطہ فریم ورک کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار میں لایا جائے۔
-
امریکی تھنک ٹینک: عراق سے امریکی فوجی انخلا ایران اور مزاحمتی گروہوں کی بڑی کامیابی
ایک امریکی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق سے امریکی فوجی انخلا کا عمل اپنے اختتام کے قریب ہے اور آخری امریکی فوجی 30 ستمبر کو عراق سے نکل جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق یہ انخلا عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہوگا اور ایران و مزاحمتی گروہوں کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔
-
عراق میں اسلحے کے معاملے پر مزاحمتی گروہوں کی شرط؛ امریکی انخلا کے بعد مکمل خودمختاری
بغداد: عراق کے مزاحمتی گروہوں نے اسلحے کو ریاستی نظم میں لانے کے اصولی امکان پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا اور عراق کی مکمل خودمختاری کے بعد ہی کیا جائے گا۔
-
نوری مالکی: عراق میں شیعہ، شیعہ لڑائی کا تصور محض وہم ہے
عراق کے سابق وزیر اعظم اور ائتلافِ دولتِ قانون کے سربراہ نوری مالکی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں اسلحے پر ریاستی اجارہ داری کے معاملے کو حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان تصادم میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا، تاہم اسے ’’شیعہ، شیعہ لڑائی‘‘ قرار دینا درست نہیں۔
-
عراق میں حشد الشعبی قانون میں ترمیم کی منظوری کا عمل تیز؛ تنظیم کی شناخت برقرار رکھنے پر زور
عراق میں حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومتی اور پارلیمانی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے حشد الشعبی کی قانونی اور سکیورٹی حیثیت مزید مضبوط ہوگی، تاہم بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ قانون میں ایسی تبدیلیاں نہیں ہونی چاہئیں جو اس ادارے کی بنیادی شناخت کو متاثر کریں یا اسے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار جمع کرانے کے معاملے سے جوڑ دیں۔
-
عمار حکیم: ہتھیاروں پر ریاست کا اختیار سیاسی نعرہ نہیں، قومی ضرورت ہے
عراق کے رہنما عمار حکیم نے کہا ہے کہ ہتھیاروں پر مکمل ریاستی اختیار کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی نظام اور قومی خودمختاری کی تکمیل کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ، امن اور طاقت کے استعمال کا فیصلہ صرف حکومت کو کرنا چاہیے۔
-
عراق میں برطانوی سفیر کے خلاف احتجاج، مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں پر بیان مسترد
عراق میں برطانوی سفیر عرفان صدیق کی جانب سے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے اور ملک میں ہتھیاروں کا اختیار صرف ریاست تک محدود رکھنے کے بیان پر سیاسی، سماجی اور میڈیا حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
-
حشد الشعبی کے 2 لاکھ 50 ہزار مجاہدین ہیں، مختلف عراقی طبقات کی نمائندگی موجود ہے: عہدیدار
حشد الشعبی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مہند العقابی نے کہا ہے کہ عراقی حشد الشعبی میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مجاہدین شامل ہیں اور اس تنظیم میں معاشرے کے مختلف طبقات کے افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی عراق کے سکیورٹی نظام کا اہم حصہ ہے اور ملک کے استحکام کے لیے اس کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
-
عراق میں صہیونیوں کی 60 لاکھ ڈالر کی میڈیا مہم بے نقاب؛ مزاحمت کے خلاف جعلی اکاؤنٹس اور اے آئی کا منصوبہ
عراقی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور عراقی کردستان کے بعض عہدیداروں کے درمیان مزاحمتی گروہوں کے خلاف منظم میڈیا اور تشہیری مہم شروع کرنے کے لیے اجلاس ہوا، جس کے لیے 60 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
-
عراق: حزب اللہ بریگیڈز کی وزیراعظم کو سخت وارننگ، امریکی ایجنڈے پر چلنے سے باز رہنے کا مطالبہ
کتائب حزب اللہ عراق کے ترجمان ابو مجاہد العساف نے وزیراعظم علی الزیدی کو مزاحمتی قوتوں کے ساتھ برتاؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ’’امریکا کے میدان میں کھیلنے‘‘ سے باز رہیں۔ گروپ نے عراق سے امریکی افواج کے مکمل انخلا سمیت مزاحمت کے ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے اپنی شرائط بھی پیش کر دی ہیں۔
-
ہادی العامری: اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں دینے کا معاملہ مکمل طور پر عراقی ہے
عراق کی بدر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے پاس رکھنے کا معاملہ مکمل طور پر عراقی مسئلہ ہے اور اس بارے میں ہونے والا ہر فیصلہ عراق ہی کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی و سکیورٹی فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔
-
عراق میں مزاحمتی گروہوں کا اسلحہ جمع کرانے کے دباؤ کے سامنے انکار
عراق میں بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے انخلا کی مقررہ تاریخ 30 ستمبر قریب آتے ہی اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں دینے کے معاملے پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ عراقی حکومت سرکاری اداروں کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہ ہونے پر زور دے رہی ہے، جبکہ مزاحمتی گروہوں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی اور سکیورٹی حالات میں اسلحہ حوالے کرنا عراق کے مفاد میں نہیں۔
-
عراقی مزاحمت: تیل کی آمدنی پر امریکی مالی سرپرستی ختم کی جائے
عراق کی مزاحمتی قوتوں نے بغداد کی تیل کی آمدنی اور مالی معاملات پر امریکی اثر و رسوخ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کو اپنی تیل کی فروخت اور بینکاری کے معاملات میں امریکا پر انحصار کم کرکے آزادانہ معاشی فیصلوں کا اختیار حاصل کرنا ہوگا۔
-
کتائب سیدالشہداء: امریکی کنٹرول میں عراق کی دولت؛ معاشی خودمختاری کے بغیر حقیقی حاکمیت ممکن نہیں
کتائب سیدالشہداء عراق کے سیکریٹری جنرل ابوالاء الولائی نے عراق کی معیشت میں امریکی اثر و رسوخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وسائل اور دولت امریکی کنٹرول میں ہیں، اس لیے معاشی و مالی خودمختاری کے بغیر عراق کی مکمل حاکمیت کا دعویٰ بے معنی ہے۔
-
عمار حکیم اور ہادی العامری کا ملاقات، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال
عراق کے نیشنل اسٹیٹ فورسز اتحاد کے سربراہ سید عمار حکیم اور بدر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی حکومت کی حمایت، کابینہ کی تکمیل، اصلاحات کے نفاذ اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
-
عراقی مقاومتی تنظیم النجباء کے ترجمان: ہم اپنے ہتھیار کسی کے حوالے نہیں کریں گے
عراقی تحریک النجباء کے ترجمان حسین علی الموسوی نے کہا ہے کہ ان کی تحریک اپنے ہتھیار کسی کے حوالے نہیں کرے گی۔ انہوں نے عراق میں ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں دینے کے مطالبے کو امریکی اور اسرائیلی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کرد مسلح گروہوں کے ہتھیاروں پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا، صرف مزاحمتی گروہوں سے اسلحہ جمع کرانے کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟
-
عراقی شیعہ سیاسی دھڑے کا اسلحہ جمع کرانے کے منصوبے پر ردعمل
عراق کے شیعہ سیاسی اتحاد «کوآرڈینیشن فریم ورک» کے رکن علی الزبیدی نے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ محدود کرنے کا منصوبہ تمام مسلح گروہوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی ایک سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور اس کے ہتھیار حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر نہیں ہیں۔
-
ہادی العامری اور حشد الشعبی کمانڈروں کا اہم اجلاس؛ عراق میں جنگی تیاری اور میدانی رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق
عراق کی بدر تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہادی العامری نے حشد الشعبی کے متعدد کمانڈروں سے ملاقات میں ملک کی تازہ ترین میدانی صورتحال اور موجودہ مرحلے کی ضروریات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حشد الشعبی اور سکیورٹی فورسز کی تیاری، صلاحیتوں اور باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
-
حشد الشعبی نے حملے کی پیشگی اطلاع چھپانے کا الزام مسترد کردیا؛ کہا، دعوے بے بنیاد ہیں
عراق کی حشد الشعبی نے اپنے سربراہ فالح الفیاض پر حملے کی پیشگی اطلاع ہونے کے باوجود فوجی یونٹس کو آگاہ نہ کرنے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوؤں کے پیچھے کوئی حقیقت یا ثبوت موجود نہیں۔
-
عراق میں اسلحہ جمع کرنے کی مہم؛ عراقی رہنما نے اسے امریکی۔اسرائیلی سازش قرار دے دیا
عراق کے رکنِ رابطہ کاری فریم ورک علی الزبیدی نے کہا ہے کہ ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت کا منصوبہ تمام مسلح تنظیموں، بشمول پیشمرگہ اور نینویٰ گارڈز، پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی ایک باقاعدہ سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور اس کا اسلحہ ریاست کے دائرۂ اختیار سے باہر نہیں ہے۔
-
الولائی: عراقی مزاحمت کے ردعمل کے وقت، نوعیت اور حجم کا جائزہ جاری ہے
عراق کی سید الشہداء بریگیڈز کے سیکریٹری جنرل ابو آلاء الولائی نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں مزاحمت کی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ سیاسی رہنماؤں کی درخواست پر کیا گیا، تاہم جوابی کارروائی کے وقت، نوعیت اور حجم پر نظرثانی کا عمل بدستور جاری ہے۔
-
رہنما تحریک نجباء: عراقی مزاحمت ہر ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے
تحریک نجباء کی سیاسی کونسل کے رکن نے لبنانی اخبار الاخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی مزاحمت کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کی حالت میں ہے، جبکہ امریکی افواج کی عراق میں موجودگی تک مزاحمت کا محاذ بند نہیں ہوگا۔
-
شیخ اکرم الکعبی کی ایران اور یمن کی کارروائیوں کی تعریف، اسرائیل کے لیے غافلگیر کن دھچکا قرار
بغداد: اسلامی مزاحمتی تحریک النجباء کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی نے ایران اور یمن کی جانب سے اسرائیلی رژیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے انہیں دشمن کے لیے ایک غیر متوقع اور مؤثر ضرب قرار دیا ہے۔
-
عراقی مقاومت
عراقی مقاومت امریکی منصوبوں کے سامنے نہیں جھکے گی
عراق کی النجباء تحریک نے اپنے بیان میں کہا: "جب کوئی ایسی حکومت تشکیل پائے گی جس کی عراق کا آسمان، زمین اور ملک کی تمام سرزمین پر مکمل حکمرانی ہوگی، تب تمام مقاومتی گروپوں کے ہتھیار حکومت کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔"
-
ہتھیاروں کی ریاستی اجارہ داری سے متعلق کمیٹی کی تشکیل کی خبروں کی تردید
تنظیم بدر: ہادی العامری کی سربراہی میں کسی کمیٹی کے قیام کی خبر درست نہیں
-
عراق میں اسلحے کی تنظیمِ نو؛ کتائب حزب اللہ نے دیگر گروہوں کے بھاری ہتھیار خریدنے کی آمادگی ظاہر کر دی
عراق میں اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوششوں کے درمیان کتائب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر بعض مسلح گروہ عسکری سرگرمیاں ترک کر کے اپنے ہتھیار چھوڑنا چاہیں تو وہ ان کے جدید اور بھاری ہتھیار خریدنے اور اپنی تحویل میں لینے کے لیے تیار ہے۔
-
شہادت امام خامنہ ای؛
دس لاکھ عراقیوں نے رہبر شہید کے جنازے میں شرکت کے لئے رجسٹریشن کرائی
عراق کے مسلم عوام نے اپیل کی ہے کہ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع جنازہ عراق میں بھی انجام دی جائے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
ایران کے حامیوں نے عراق میں ہماری تنصیبات کو 600 مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا، سی این این
سی این این نے لکھا ہے: ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز سے، عراق میں امریکی "سفارتی تنصیبات" پر 600 حملے ہوئے ہیں۔ / یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کسی کسی خودمختار ملک میں، "سفارتی تنصیبات" کی آڑ میں اتنی ساری فوجی تنصیبات اور اڈے قائم کرنا، اور ان پر ملکی مزاحمت کےحملوں کو "سفارتی تنصیبات پر حملے" قرار دینے، نیز ایک بہت بڑے اڈے کو "امریکی سفارتکاروں کا لاجسٹک مرکز" قرار دینے کا جواز کیا ہے؟ / یہ کیسا ڈپلومیٹک سپورٹ سینٹر ہے جس میں ایف-35 طیارے ہیں؟
-
وعدہ صادق-4؛
بغداد: امریکی لاجسٹک فوجی اڈے میں دھماکے +ویڈیوز
عراقی ذرائع نے اعلان کیا کہ آج [پیر کے دن] بغداد میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی "وکٹری" (یا وکٹوریا) اڈے پر حملے کے بعد دھماکے ہوئے اور آگ بھڑک اٹھی۔
-
وعدہ صادق-4؛
مقاومت و مزاحمت کی برکتیں/ عراق سے قابض افواج کا انخلاء
امریکی فوجی بغداد میں نام نہاد امریکی سفارتخانے سے وابستہ 'وکٹوریا ہوائی اڈے' کو ترک کر دیا اور عراقی مقاومتی مجاہدین سے عارضی جنگ بندی کی بھیک مانگنے کے بعد اردن کی طرف چلے گئے۔