اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حشد الشعبی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مہند العقابی نے کہا کہ 30 ستمبر عراق کے لیے ایک تاریخی اور خودمختاری کا دن ہے، کیونکہ یہ ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے لیے مقررہ تاریخ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی، میڈیا اور ثقافتی حلقے اس موقع کے حوالے سے ابہام اور شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ حشد الشعبی سے متعلق قانون جلد منظور کر لیا جائے گا۔
العقابی نے عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر ایک تاریخی کامیابی ہے جس کے حصول میں مختلف فریقوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں موجودہ امن و استحکام ملک کے سکیورٹی اداروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی اجارہ داری کے معاملے کو دیگر مسائل کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کچھ عناصر حالات کو مزید بحران کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حشد الشعبی کے عہدیدار نے کہا کہ مزاحمتی گروہ عراق کے سیاسی نظام، سلامتی اور استحکام کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے عراقی عوام پر زور دیا کہ 30 ستمبر کو خودمختاری اور خوشی کے دن کے طور پر منائیں اور اس تاریخ کے بعد ممکنہ تصادم کے خدشات پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عراقی فریق آپس میں کسی مسلح تصادم کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ تمام فریق عراق کی سلامتی، استحکام اور قومی اتحاد کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اختلافات کے حل کا بہترین اور بنیادی راستہ مذاکرات ہیں، جبکہ حشد الشعبی حکومت اور مختلف گروہوں کے درمیان مؤقف قریب لانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔
العقابی نے حشد الشعبی کے قانون کی منظوری کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام شواہد اس قانون کی جلد منظوری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون حشد الشعبی کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے حقوق کی ضمانت دے گا اور تنظیم کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے حشد الشعبی کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم افرادی قوت، تربیت، تنظیم، اسلحے اور دیگر سازوسامان کے حوالے سے مسلسل ترقی کر رہی ہے اور عالمی حالات کے مطابق اس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے منصوبے موجود ہیں۔
العقابی نے کہا کہ حشد الشعبی عراقی سکیورٹی فورسز اور حکومت کے لیے معاون اور قابلِ اعتماد ادارہ ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حشد الشعبی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی کمان میں کام کرتا ہے اور ان کی ہدایت کے بغیر ایک میٹر بھی نقل و حرکت نہیں کرتا۔
انہوں نے بتایا کہ حشد الشعبی میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار جنگجو شامل ہیں اور اس میں عراقی معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی موجود ہے۔ ان کے مطابق تنظیم میں مسیحی اور یزیدی برادریوں سے تعلق رکھنے والی بریگیڈز بھی شامل ہیں۔
العقابی نے کہا کہ حشد الشعبی کو بعض معاملات میں ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ یہ عراقی سکیورٹی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے حشد الشعبی کے زخمیوں، شہداء اور ان کے خاندانوں کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہداء اور زخمیوں کے بیشتر خاندان معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
عراقی عہدیدار نے عراق میں بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ مزاحمتی گروہوں کو اس اتحاد کی موجودگی برقرار رہنے پر تشویش ہے، تاہم انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یہ گروہ عراق کے سیاسی نظام، قومی اتحاد اور ملک کے استحکام کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ