26 اگست 2026 - 16:15
عراق میں حشد الشعبی قانون میں ترمیم کی منظوری کا عمل تیز؛ تنظیم کی شناخت برقرار رکھنے پر زور

عراق میں حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومتی اور پارلیمانی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے حشد الشعبی کی قانونی اور سکیورٹی حیثیت مزید مضبوط ہوگی، تاہم بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ قانون میں ایسی تبدیلیاں نہیں ہونی چاہئیں جو اس ادارے کی بنیادی شناخت کو متاثر کریں یا اسے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار جمع کرانے کے معاملے سے جوڑ دیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف علی الزیدی نے حشد الشعبی کے قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے منظور کرانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حشد الشعبی عراق کی مسلح افواج کا حصہ ہے اور اسے حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اعلان کیا ہے کہ حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم اور اس کی منظوری کا معاملہ آئندہ دنوں میں زیرِ بحث آئے گا۔ ان کے مطابق، اس قانون کا مقصد ایک مضبوط اور مربوط سکیورٹی ادارہ تشکیل دینا اور تمام فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔

عراق کی پارلیمنٹ نے نومبر ۲۰۱۶ میں حشد الشعبی سے متعلق قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت اسے ملک کی مسلح افواج کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ماتحت کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار قاسم سلمان العبودی نے خبردار کیا ہے کہ قانون میں ایسی تبدیلیاں نہیں کی جانی چاہئیں جو حشد الشعبی کو اس کی بنیادی شناخت سے دور کردیں۔

انہوں نے بعض رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی کے قانون کی منظوری کو مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے کے معاملے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایسا ہوا تو عراق میں سیاسی بحران اور اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

العبودی نے کہا کہ حشد الشعبی سے متعلق قانون سازی مکمل طور پر عراق کے قومی فیصلے کے تحت اور کسی بھی بیرونی دباؤ سے آزاد ہوکر ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، حشد الشعبی کے قانونی مستقبل کو ریاست کے پاس ہتھیاروں کے اختیار کے معاملے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

دوسری جانب متعدد سیاسی شخصیات اور ماہرین نے حشد الشعبی کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سیاسی رہنما اور کوآرڈینیشن فریم ورک کے رکن شبل الزیدی نے حشد الشعبی کو دہشت گردی کے خلاف عراقی عوام اور سکیورٹی فورسز کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ایسا قانون منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے اس ادارے کو مزید مضبوط، ترقی یافتہ اور جدید وسائل سے لیس کیا جاسکے، جبکہ اس کی فکری اور نظریاتی شناخت بھی برقرار رہے۔

سیاسی محقق ماجد الشویلی نے بھی حشد الشعبی کے ڈھانچے، کمانڈ کے نظام، ذمہ داریوں اور اہلکاروں کے حقوق کے تعین کے لیے واضح قانون سازی کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اصلاحات کے نام پر حشد الشعبی کی نظریاتی اور جہادی بنیادوں کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔

مصنف اور یونیورسٹی استاد محمد علی الدلیمی نے حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم کو فوری ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے حشد الشعبی کی ادارہ جاتی حیثیت مضبوط ہوگی اور اس کے اہلکاروں، زخمیوں، معذور اہلکاروں اور شہداء کے اہل خانہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا۔

دریں اثنا، حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم کی منظوری پر امریکی دباؤ بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ حشد الشعبی کی قانونی حیثیت مستحکم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا حصہ ہے۔

موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حشد الشعبی کے قانون میں ترمیم کا معاملہ آنے والے دنوں میں عراق کے اہم ترین سیاسی اور سکیورٹی معاملات میں شامل ہوسکتا ہے، جہاں ایک طرف اس ادارے کی قانونی حیثیت مضبوط بنانے اور دوسری جانب اس کے موجودہ ڈھانچے اور شناخت کے تحفظ پر توجہ مرکوز رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha