اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی تحریک النجباء کے ترجمان حسین علی الموسوی نے روسیا الیوم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ النجباء اپنے ہتھیار کسی کے حوالے نہیں کرے گی۔
الموسوی نے کہا کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ صرف مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ معاملہ امریکا اور اسرائیل کے دباؤ اور مسلط کردہ مطالبات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے عراقی وزیرِاعظم علی الزیدی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی کوشش سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دعوے پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اس طرح کی اطلاعات کا مقصد عوامی رائے کو مزاحمتی گروہوں کے خلاف بھڑکانا ہے۔
النجباء کے ترجمان نے سرکاری اداروں کی جانب سے ڈرونز قبضے میں لیے جانے سے متعلق اعلان کو بھی بے بنیاد اور ایک فرضی کارروائی قرار دیا۔
حسین علی الموسوی نے دعویٰ کیا کہ کردستان کے علاقے میں امریکا کی حمایت اور کرد رہنماؤں کی نگرانی میں 25 ہزار کرد مسلح کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عراق کے شہر سنجار میں کردستان ورکرز پارٹی کے 15 ہزار مسلح عناصر موجود ہیں جو درمیانے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرد رہنماؤں نے اپنی پیشمرگہ فورسز کے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کیا ہے اور اس معاملے پر بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔
النجباء کے ترجمان نے سوال اٹھایا: ’’کوئی ان ہتھیاروں کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتا، جبکہ مزاحمت کے ہتھیاروں پر ہی اصرار کیا جاتا ہے؟‘‘
آپ کا تبصرہ