18 اگست 2026 - 15:57
عراق میں مزاحمتی گروہوں کا اسلحہ جمع کرانے کے دباؤ کے سامنے انکار

عراق میں بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے انخلا کی مقررہ تاریخ 30 ستمبر قریب آتے ہی اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں دینے کے معاملے پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ عراقی حکومت سرکاری اداروں کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہ ہونے پر زور دے رہی ہے، جبکہ مزاحمتی گروہوں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی اور سکیورٹی حالات میں اسلحہ حوالے کرنا عراق کے مفاد میں نہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق سے بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے انخلا کی مقررہ مدت قریب آنے کے ساتھ وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف علی الزیدی نے اسلحہ ریاستی اداروں کے کنٹرول میں لانے کا عمل مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔

عراقی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے پاس رکھنے سے قانون کی بالادستی اور حکومتی رٹ مضبوط ہوگی، جبکہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد عراق کو استحکام اور ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب کتائب حزب اللہ اور تحریک النجباء سمیت بعض عراقی مزاحمتی گروہوں کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی اداروں اور قانون کی بالادستی کے اصول کے مخالف نہیں، تاہم موجودہ سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری غیر یقینی حالات کے باعث اس مرحلے پر مکمل طور پر اسلحہ حوالے کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

کتائب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے مزاحمت کے ہتھیاروں کو برقرار رکھنے اور انہیں مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ تحریک النجباء کے ترجمان حسین علی الموسوی نے بھی واضح کیا کہ ان کی تنظیم اپنا اسلحہ حکومت کے حوالے نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اسلحہ جمع کرانے کا منصوبہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مزاحمتی گروہوں پر دباؤ کا حصہ ہے۔

اسی دوران تنظیم بدر نے حکومت کی جانب سے اسلحہ جمع کرنے کے معاملے میں تیزی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم سے زیادہ لچک کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے اسلحہ حوالے کرنے کے لیے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں: عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا، ملک کو درپیش اسٹریٹجک خطرات کا خاتمہ اور عراقی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں، خصوصاً فضائی دفاع کو مکمل طور پر مضبوط بنانا۔

تنظیم بدر کے مطابق جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، مزاحمتی گروہوں سے اسلحہ واپس لینا عراق کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha