22 اگست 2026 - 16:28
عراق میں برطانوی سفیر کے خلاف احتجاج، مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں پر بیان مسترد

عراق میں برطانوی سفیر عرفان صدیق کی جانب سے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے اور ملک میں ہتھیاروں کا اختیار صرف ریاست تک محدود رکھنے کے بیان پر سیاسی، سماجی اور میڈیا حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی سفیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ مسلح گروہوں کی جانب سے ہتھیار چھوڑنے سے انکار اور ریاست کے پاس ہتھیاروں کی مکمل اجارہ داری نہ ہونے کی صورت میں مستقبل میں مسلح تصادم کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ اور عالمی برادری عراقی حکومت کو اپنی ریاستی رٹ قائم کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

عراقی یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار احمد علی جواد نے برطانوی سفیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں جیسے معاملات پر عراقیوں کے درمیان اختلافِ رائے اور بحث فطری ہے، لیکن ایسے حساس قومی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے برطانوی سفیر کے بیان کو عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کے بیانات عراق اور خطے سے متعلق مغرب، امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت سامنے آتے ہیں۔

عراقی امور کے سکیورٹی تجزیہ کار احمد عبدالرحمن نے بھی برطانوی سفیر کے مؤقف کو اس سوچ کا عکاس قرار دیا جس کے تحت خطے کے ممالک کو مغربی پالیسیوں کا تابع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے واشنگٹن اور لندن کے مطالبات تسلیم کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا شکست اور توہین کے مترادف ہے، جبکہ خطے کے ممالک کو اپنی آزادی اور خودمختاری کا دفاع کرنا چاہیے۔

دوسری جانب عراقی میڈیا کارکن اور بلاگر ازہار محمد التمیمی نے کہا کہ برطانوی سفیر کے حالیہ بیانات کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ وہ اس سے قبل بھی حشد الشعبی اور مزاحمتی گروہوں کے بارے میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کے خلاف عراقی حکومت کی جانب سے سخت احتجاج کم از کم ردعمل ہونا چاہیے، کیونکہ خاموشی یا کمزور ردعمل برطانوی سفیر کو مستقبل میں اس طرح کے بیانات مزید شدت سے دینے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha