اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی خبر رساں ادارے المعلومہ نے ایک عراقی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراقی کردستان کے بعض حکام اور اسرائیلی حکام کے درمیان مزاحمت کے خلاف ایک میڈیا مہم شروع کرنے کے حوالے سے اجلاس ہوا ہے۔
عراقی ذریعے کے مطابق اجلاس میں مزاحمت کے ہتھیاروں کے خلاف ایک میڈیا آپریشن روم قائم کرنے پر بات چیت کی گئی، جس کا مقصد مزاحمتی گروہوں کو بدنام کرنا اور عوامی سطح پر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق میں مزاحمت کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہورہا ہے۔
المعلومہ کے مطابق اجلاس میں اسرائیلی جماعت لیکود کے ارکان اوشر شکایم اور کیترین شطریت سمیت متعدد اسرائیلی عہدیدار شریک ہوئے۔ اجلاس میں 2023 کے اواخر میں شروع کی گئی ایک سابقہ مہم کی طرز پر مزاحمت کے خلاف میڈیا اور سائبر کارروائیوں کے لیے خصوصی آپریشن روم قائم کرنے کی تجویز زیر بحث آئی۔
عراقی ذریعے نے بتایا کہ کردستان میں قائم کیے جانے والے اس میڈیا آپریشن روم کا مقصد سوشل میڈیا پر منظم مہم کے ذریعے مزاحمت کے ہتھیاروں کے خلاف رائے عامہ کو متاثر کرنا اور مزاحمتی گروہوں کی شبیہ مسخ کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس مہم کے لیے تقریباً 60 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید رقم فراہم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
اس منصوبے میں بڑی تعداد میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے لیے سافٹ ویئر خریدنا، گمنام میڈیا پلیٹ فارمز اور صفحات کو مالی معاونت فراہم کرنا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بصری مواد تیار کرنا شامل ہے۔
عراقی ذریعے نے عوام کو ایسی منظم میڈیا اور سائبر مہمات کے بارے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پس پردہ مالی مفادات اور خفیہ منصوبوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق میں ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں دینے کا معاملہ زیر بحث ہے اور بعض حلقے اس کا ہدف مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں کو قرار دے رہے ہیں۔
کتائب حزب اللہ عراق کے سکیورٹی عہدیدار ابو مجاہد العساف نے حال ہی میں کہا تھا کہ مزاحمت کے ہتھیاروں سے متعلق حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے پہلی شرط عراق کی سرزمین اور فضائی حدود سے امریکی فوجیوں کا حقیقی اور مکمل انخلا اور ان کی واپسی نہ ہونے کی ضمانت ہے۔ انہوں نے سیاسی و اقتصادی فیصلوں کو امریکی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے، شمالی عراق سے ترک فوجیوں کے انخلا اور کردستان میں پیشمرگہ فورسز کو تحلیل کرنے کو بھی مزاحمت کی شرائط میں شامل قرار دیا تھا۔
آپ کا تبصرہ