اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کا معاملہ ایک اہم سیاسی اور سکیورٹی مسئلہ بن چکا ہے۔ عراقی حکومت مزاحمتی گروہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے عراق سے انخلا کی آخری تاریخ بھی قریب آ رہی ہے۔
مزاحمتی گروہوں کا مؤقف ہے کہ اسلحے کے معاملے کو بیرونی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور عراق کی سرزمین، فضائی حدود اور سکیورٹی سے متعلق فیصلوں پر مکمل اختیار عراقی ریاست کا ہونا ضروری ہے۔
حکومت اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان مذاکرات
اسی سلسلے میں شیعہ مزاحمتی گروہوں نے مجلس اعلائے اسلامی عراق کے سربراہ ہِمام حمودی کو سیاسی ہم آہنگی کے اتحاد کی خصوصی کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے، جو حکومت کے ساتھ اسلحے کے معاملے پر مذاکرات کر رہی ہے۔
اس کمیٹی میں نوری المالکی، ہادی العامری اور محمد شیاع السودانی سمیت اہم عراقی رہنما شامل ہیں۔
مجلس اعلائے اسلامی عراق کے ترجمان علی الدفاعی نے بتایا ہے کہ ہِمام حمودی نے مزاحمتی گروہوں کے رہنماؤں سے براہِ راست ملاقاتیں کرکے اسلحے کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔
ان مذاکرات میں مزاحمتی گروہوں نے اسلحے کو منظم کرنے کے اصول کو قابلِ غور قرار دیا ہے، تاہم اسے عراق کی مکمل خودمختاری کے قیام سے مشروط کیا ہے۔
اسلحے کا معاملہ داخلی تصادم کا سبب نہیں بننا چاہیے
ہِمام حمودی نے بھی اسلحے کے معاملے کو مذاکرات اور باہمی اتفاق رائے کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں سکیورٹی بحران جاری ہے اور عراق کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہے، اس مسئلے کو تصادم کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلحے کو ریاستی نظم میں لانا عراق کی قومی خودمختاری کے قیام کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے اور یہ عمل مرحلہ وار، حقیقت پسندانہ انداز میں اور عراقی فریقوں کے درمیان اتفاق رائے سے آگے بڑھایا جائے۔
غیر ملکی افواج کا انخلا بنیادی مطالبہ
عراق کے مزاحمتی گروہوں کے اہم مطالبات میں غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا بھی شامل ہے۔ عراقی حکام کے مطابق امریکی قیادت میں اتحادی افواج اور ان سے متعلق دفاعی نظام ستمبر کے اختتام تک عراق سے نکل جائیں گے، جس کے بعد اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے معاملے پر زیادہ سنجیدگی سے پیش رفت متوقع ہے۔
عراقی وزیر اعظم کے سکیورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے بھی حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاع دی ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اسلحے کو حکومت اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے اختیار میں لانے کے لیے ایک جامع طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
عراق کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
عراق کے سیاسی ہم آہنگی کے اتحاد کے اہم رہنما ہادی العامری بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اسلحے کو ریاستی نظم میں لانا ایک قومی اور قانونی مقصد ہے اور اس معاملے کو حکومت اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان داخلی تصادم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے فیصلہ مکمل طور پر عراقی ہونا چاہیے اور کسی بھی غیر ملکی فریق کو اس معاملے میں مداخلت کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغداد اس حساس معاملے کو فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک جانب ریاستی اداروں کے اختیار کو مضبوط بنانے پر زور ہے تو دوسری جانب مزاحمتی گروہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا اور عراق کی مکمل خودمختاری کو بنیادی شرط قرار دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ