18 اگست 2026 - 16:28
عراق: حزب اللہ بریگیڈز کی وزیراعظم کو سخت وارننگ، امریکی ایجنڈے پر چلنے سے باز رہنے کا مطالبہ

کتائب حزب اللہ عراق کے ترجمان ابو مجاہد العساف نے وزیراعظم علی الزیدی کو مزاحمتی قوتوں کے ساتھ برتاؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ’’امریکا کے میدان میں کھیلنے‘‘ سے باز رہیں۔ گروپ نے عراق سے امریکی افواج کے مکمل انخلا سمیت مزاحمت کے ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے اپنی شرائط بھی پیش کر دی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کتائب حزب اللہ عراق کے ترجمان ابو مجاہد العساف نے ایک بیان میں وزیراعظم علی الزیدی کی جانب سے مزاحمتی قوتوں کے ساتھ اختیار کیے گئے رویے پر شدید تنقید کی اور انہیں خبردار کیا کہ وہ امریکا کے مفادات کے مطابق اقدامات کرنے سے گریز کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی مزاحمت کسی بھی حکومت کے ساتھ مزاحمتی ہتھیاروں کو منظم کرنے کے معاملے پر مذاکرات کے لیے چند بنیادی شرائط رکھتی ہے۔ ان میں عراق کی سرزمین اور فضائی حدود سے امریکی فوجیوں کا مکمل اور حقیقی انخلا، ان کی واپسی روکنے کی ضمانت اور عراق کے سیاسی و اقتصادی فیصلوں کو امریکی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا شامل ہے۔

کتائب حزب اللہ نے شمالی عراق سے ترک فوجیوں کے انخلا اور پیشمرگہ فورسز کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے پیشمرگہ فورسز کو عراق کی وحدت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے امریکا اور اسرائیل سے روابط ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کتائب حزب اللہ نے وزیراعظم کے مبینہ ’’غیر دانشمندانہ اقدامات‘‘ کے خلاف 100 دن سے زائد عرصے تک صبر کیا، تاہم علی الزیدی نے شیعہ سیاسی حلقوں اور الحشد الشعبی کے سربراہ کی سفارشات پر بھی توجہ نہیں دی۔

کتائب حزب اللہ نے مزاحمتی کارکنوں، شہداء کے اہل خانہ، زخمیوں اور علما کے گھروں پر چھاپوں اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی بھی شدید مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں براہِ راست امریکی نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔

گروپ نے وزیراعظم کو خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات جاری رہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوگی۔ بیان میں علی الزیدی سے کہا گیا کہ ’’عراق کے دشمنوں کے میدان میں کھیلنا بند کریں۔‘‘

کتائب حزب اللہ نے مزید کہا کہ جس وقت مزاحمتی قوتیں عراق کی خودمختاری، حکومت اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے قربانیاں دے رہی تھیں، اس وقت علی الزیدی محفوظ ماحول میں اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ گروپ نے وزیراعظم کو خبردار کیا کہ وہ خود کو مزاحمتی قوتوں کے مقابل کھڑا نہ کریں۔

بیان کے آخر میں عراق کی سیاسی و مذہبی قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے پیدا کیے گئے مبینہ ’’سکیورٹی انحراف‘‘ کی اصلاح کے لیے فوری کردار ادا کریں تاکہ عراق کے استحکام اور خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکے اور ملک کو ایسے راستے پر جانے سے روکا جا سکے جسے گروپ کے بقول عراق کے دشمن چاہتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha