9 اگست 2026 - 18:04
عراقی شیعہ سیاسی دھڑے کا اسلحہ جمع کرانے کے منصوبے پر ردعمل

عراق کے شیعہ سیاسی اتحاد «کوآرڈینیشن فریم ورک» کے رکن علی الزبیدی نے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ محدود کرنے کا منصوبہ تمام مسلح گروہوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی ایک سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور اس کے ہتھیار حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر نہیں ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، علی الزبیدی نے کہا کہ اسلحہ محدود کرنے کا منصوبہ تمام مسلح تنظیموں، بالخصوص پیشمرگہ اور نینویٰ گارڈ پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی کے ہتھیاروں کو حکومت کے اختیار سے باہر نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ یہ ایک سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ہدایات کا پابند ہے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے الزبیدی نے کہا کہ یہ بات قابلِ تعجب ہے کہ پیشمرگہ اور نینویٰ گارڈ کے وہ عناصر جو بعشیقہ کے زلیکان کیمپ میں ترک فوج کے ساتھ موجود ہیں، اسی طرح سنجار میں موجود کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجو، اسلحہ حکومت کے حوالے کرنے کے عمل میں شامل نہیں کیے جارہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کے پاس ریاستی دائرۂ اختیار سے باہر اسلحہ موجود ہے اور وہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ہدایات کے پابند نہیں، جبکہ حشد الشعبی ایک سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور اعلیٰ فوجی کمان کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔

الزبیدی نے مزید کہا کہ اسلحہ حوالے کرنے کا منصوبہ ایک امریکی۔اسرائیلی منصوبہ ہے جس کا مقصد عراق کی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ شام میں دہشت گردی کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

عراقی رہنما نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل حشد الشعبی اور مزاحمتی گروہوں کی موجودگی کے باعث عراق میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلحے کے معاملے پر ایک ہی معیار اپنایا جائے اور یہ معیار عراق کے تمام مسلح گروہوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha