اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی اسلامی مزاحمت نے امریکی اتحاد کی افواج کے عراق سے انخلا کے موقع پر جاری بیان میں کہا کہ اسے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے اب تک عراقی حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، حالانکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عراقی اسلامی مزاحمت کسی بھی حکومتی یا سیاسی فریق کی جانب سے اعلان کردہ ٹائم لائن یا معاہدوں کی پابند نہیں ہوگی۔
عراقی اسلامی مزاحمت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مزاحمت کا اسلحہ مجاہدین کے پاس امانت کے طور پر موجود رہے گا اور اس کا مقصد عراق اور عراقی عوام کو درپیش کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔ گروپ کے مطابق اسلحے کا برقرار رہنا ملک کی خودمختاری کے تحفظ سے منسلک ہے۔
بیان کے آخر میں عراقی اسلامی مزاحمت نے کہا کہ عراق کی عزت و خودمختاری کو یقینی بنانے اور غیر ملکی تسلط کے خاتمے کے لیے ہر ایسے اقدام پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں جو ان مقاصد کے حصول میں مدد دے۔
آپ کا تبصرہ