15 ستمبر 2026 - 12:26
ایرانی حملوں کے اثرات؛ کویت میں امریکی سفارت خانہ بند، / ہزاروں (!) سفارت کاروں کا انخلا، امریکی اعترافات

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں پہلی سرکاری رپورٹ میں پہلی بار ایران کے حملوں کے بھاری نقصانات کا اعتراف کیا اور کہا کہ خطے میں امریکہ کی سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے نقصان سے دوچاریا یا تباہ ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) کے نگران ادارے نے ایران کے ساتھ جنگ میں اس ملک کے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں اپنی پہلی سرکاری رپورٹ پیش کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے پورے خطے میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل پلیٹ بی مورنگ (Platte B. Moring) نے اس خصوصی رپورٹ میں، جو پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے دفاتر، امریکی وزارت خارجہ اور امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کی طرف سے تیار کی گئی ہے اور پیر کے روز شائع ہوئی، امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) کے ساتھ اپنے رابطوں کے حوالے سے اعتراف کیا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایران کے حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو تباہ کر دیا ہے یا انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

اس رپورٹ میں 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے 30 جون تک کے عرصے کا جائزہ لیا گیا ہے اور امریکہ کے کچھ کلیدی ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

سی این این نیٹ ورک نے اس سے قبل رپورٹ دی تھی کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکہ کے کچھ اہم سازوسامان، بشمول میزائل دفاعی ریڈار سسٹمز، ایران کے حملوں کا نشانہ بنے اور تباہ ہوئے۔

کویت میں امریکی سفارت خانے کی بندش

مارچ کے مہینے کے اوآئل میں ہی ہے، ایک ڈرون نے دبی میں امریی قونصلیٹ کی سروس بلڈنگ (= سی آئی بلڈنگ) کو نشانہ بنایا؛ تاہم امریکی وزیر خارجہ "مارکو روبیو" نے اس وقت کہا تھا کہ یہ ڈرون "سفارت خانے کی مرکزی عمارت سے ملحقہ پارکنگ" سے ٹکرایا!

اس رپورٹ کے مطابق، کویت میں امریکی سفارت خانے نے بھی مارچ میں، ایران کے ڈرون حملوں کا نشانہ بننے اور نقصان کا متحمل ہونے کے بعد، اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کر دیں۔

اس سفارت خانے نے جون کے اواخر میں امریکی شہریوں کو خدمات فراہم کرنے کے لئے اپنی ہنگامی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ صرف عراق میں امریکی تنصیبات کے خلاف 600 سے زائد حملے ہوئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سفارتی تنصیبات کے خلاف کئے گئے حملوں سے، سب سے زیادہ مالی نقصان ہؤا اور تقریباً 15/7 کروڑ ڈالر کا نقصان ہؤا۔

خطے سے ہزاروں (!) امریکی سفارت کاروں کا انخلا

اس رپورٹ کے مطابق، 23 فروری سے 30 جون کے درمیان، خطے سے باہر موجود امریکی سفارتی عملے کی تعداد 3500 تک پہنچ گئی؛ کیونکہ بیشتر امریکی [مبینہ] سفارتی مراکز نے حکومت کے حکم یا اجازت سے اپنا عملہ خطے سے باہر نکال دیا تھا۔

فروری میں جنگ کے آغاز کے چند ہفتے بعد، جب خطے بھر میں امریکی سفارتی تنصیبات حملوں کا نشانہ بن رہی تھیں، امریکی وزارت خارجہ نے بحرین، عراق، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے انخلا کا حکم جاری کیا۔

"انخلا کے حکم" کا مطلب یہ تھا کہ غیر ضروری عملے اور ان کے تمام اہل خانہ کو خطے سے نکلنا ہوگا۔ اس کے برعکس، "مجاز [اختیاری] انخلا" کی صورت میں، غیر ضروری عملے کو اختیار تھا کہ وہ خطے سے نکلیں یا وہیں رہیں۔

امریکی سفارتی مراکز کی اکثریت اب بھی "محدود سرگرمی" کی حالت میں ہے؛ ایسی حالت جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مراکز معمول کے حالات میں پلٹ گئے ہیں یا عملے کی واپسی اور مکمل تعیناتی نہیں ہے اور "محدود سرگرمی" کا حکم انخلا کے حکم کے اجراء کے چھ ماہ بعد لاگو ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: شیدا فرہادیان پور

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha