20 اکتوبر 2026 - 09:27
نیشن: ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ نے عرب اتحادیوں کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا

امریکی ہفت روزہ جریدے ’’نیشن‘‘ نے یمن کی جانب سے سعودی اہداف پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ نہ صرف اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے امریکا کے عرب اتحادیوں کی سلامتی اور استحکام کو بھی غیر معمولی خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، امریکی ہفت روزہ جریدے ’’نیشن‘‘ نے روزویلٹ یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر ڈیوڈ فارس کے تحریر کردہ تجزیے میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان حالیہ جنگی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یمنی فورسز کی جانب سے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ظہران میں واقع تنصیبات اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے حالیہ واقعات، جن کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان کا دعویٰ کیا گیا، امریکی جنگ کے تناظر میں سعودی عرب کے سلامتی کے نظام کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کرتے ہیں۔

جریدے کے مطابق، یہ حملے عراق کی مزاحمتی فورسز کی جانب سے سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک پھیلی اہم تیل پائپ لائن کو نقصان پہنچائے جانے کے چند ہفتے بعد ہوئے۔ فارس نے لکھا کہ سعودی عرب کی کمزوری کا یہ اچانک اظہار ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف عجلت میں شروع کی گئی اور ناکام جنگ کے علاقائی نتائج کی تازہ مثال ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی، لیکن اس نے خلیج فارس کے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔ اس کے اثرات آئندہ وسط مدتی انتخابات یا ٹرمپ کی صدارت کی مدت سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ فارس کے مطابق، اگر ٹرمپ تہران کے ساتھ کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچتے تو یہ واضح نہیں کہ خلیج فارس میں جاری افراتفری کو خطے کی حدود تک محدود رکھا جاسکے گا یا نہیں۔

تجزیے میں علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالات کا رخ حیران کن انداز میں بدلنے کے بعد ریاض اب مختلف سمتوں سے دباؤ کا سامنا کررہا ہے۔

فارس کے مطابق، صرف ایک سال پہلے سعودی عرب اپنی طاقت کے عروج پر تھا۔ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں لابنگ کے ذریعے سعودی قیادت نے خود کو بھاری محصولات اور امریکی صدر کے اچانک فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی۔

اسی دوران، ایران کے دیرینہ حریف سعودی عرب کو یہ توقع بھی تھی کہ 2025 کی گرمیوں میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد تہران کی جوہری صلاحیت اور فوجی تیاریوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تجزیے میں مزید کہا گیا کہ ریاض کے پاس خاصا سفارتی دباؤ بھی موجود تھا، کیونکہ ٹرمپ چاہتے تھے کہ سعودی عرب فلسطینی مسئلے سے متعلق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ کر ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوجائے۔

فارس نے واشنگٹن کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ آج سعودی عرب کی کئی دہائیوں پر محیط سلامتی اور ترقی کی حکمت عملی ایک ایسی جنگ کے باعث گہرے بحران میں گھر گئی ہے جسے آگے بڑھانے میں ریاض نے خود بھی اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے اتحاد کی حمایت کے لیے کبھی کوئی قابلِ جواز وجہ موجود نہیں تھی، تاہم سعودی معیشت کا اچانک بحران ایسے نتائج پیدا کرسکتا ہے جن سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

تجزیے میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج کو درپیش گولہ بارود کی شدید قلت کے اثرات اس کے علاقائی اتحادیوں پر بھی پڑیں گے، جو میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے بظاہر تقریباً بے دفاع دکھائی دے رہے ہیں۔

’’نیشن‘‘ کے تجزیہ کار نے امریکی فوج میں گولہ بارود کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یمنی فورسز کا ایک دولت مند اور ترقی یافتہ ملک سعودی عرب کو دباؤ میں لانے کے قابل ہونا واقعی تشویش ناک صورت حال ہے۔

ان کے مطابق، یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی ممالک میں وہ کوئی بھی دفاعی نظام محفوظ نہیں جس کے پاس اپنے میزائل دفاعی نظام، بالخصوص پیٹریاٹ، موجود نہ ہوں۔

فارس نے اسے اس بات کی تازہ علامت قرار دیا کہ ایران کے فوجی و صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے متعلق ٹرمپ کے بار بار کیے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں۔

ایران نے خطے میں امریکی برتری کے تصور کو چیلنج کردیا
فارس نے زور دیا کہ ایران یمنی فورسز کو براہِ راست کنٹرول نہیں کرتا، تاہم یمنی فورسز اس افراتفری کے ماحول میں کارروائیوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیار دکھائی دیتی ہیں۔

تجزیے کے مطابق، اس صورت حال نے سعودی عرب اور خلیج فارس کی دیگر بادشاہتوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ انہیں واشنگٹن میں موجود ایک دور افتادہ اور ناقابلِ اعتماد اتحادی پر انحصار کرنے کے بجائے، جس کے بارے میں فارس کا کہنا ہے کہ وہ سامراجی توسیع پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے، ممکنہ امن کے بدلے خلیج فارس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قبول کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔

فارس نے لکھا کہ ایران نے خطے میں امریکی برتری کے تصور کو چیلنج کیا ہے اور اس کے بعد خلیجی بادشاہتوں کے لیے اپنی سابقہ سلامتی کی حکمت عملیوں کی طرف سادہ انداز میں واپس جانا مشکل اور ناخوشگوار ہوگیا ہے۔

نیشن نے جنگ کے ممکنہ علاقائی نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ اب ایسے متعدد خطرات سامنے آچکے ہیں جن کا آٹھ ماہ پہلے تصور بھی مشکل تھا۔

تجزیے کے مطابق، سعودی عرب کے حساس اور غیر عسکری اہداف پر بار بار حملوں سے وسیع پیمانے پر افراتفری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ان اہداف میں ڈیٹا سینٹرز، تیل کی پائپ لائنیں، ہوائی اڈے اور خلیجی ممالک کے بڑے شہروں میں واقع اہم تنصیبات شامل ہوسکتی ہیں۔

جریدے نے مزید لکھا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کا نیٹ ورک بھی سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ امریکا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو منظم رکھنے کے لیے مہنگی اور مسلسل کوششیں کررہا ہے، لیکن یہ کوششیں نہ پائیدار ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

فارس کے مطابق، زیادہ سے زیادہ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس میں اقتصادی ترجیحات کو فوقیت دی جارہی ہے، لیکن اس کا کسی قابلِ قبول فوجی فتح کی حکمت عملی سے کوئی واضح تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر ٹرمپ اور پینٹاگون میں جنگی منصوبہ سازوں، بالخصوص وزیر دفاع پیٹ ہیگست، نے اس امکان کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا تھا کہ کئی ماہ کی فضائی بمباری کے باوجود ایران کا نظام برقرار رہ سکتا ہے اور وہ خطے میں دور و نزدیک واقع اہداف پر حملے کرنے کی صلاحیت بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔

فارس نے تنقیدی انداز میں لکھا کہ اگر واشنگٹن میں ایک بے شرم حکومت برسرِ اقتدار نہ ہوتی تو ہیگست کو کئی ماہ پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ تاہم ان کے مطابق، انہوں نے دلدل میں مزید پھنسنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اپنا زیادہ وقت سیاسی نوعیت کی تصاویر اور ایسے اقدامات پر صرف کررہے ہیں جن کا مقصد ان پیشہ ور فوجی افسران کو ہٹانا ہے جو آزادانہ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واشنگٹن اب بھی ایران میں نظام کی تبدیلی کی پالیسی پر قائم ہے
امریکی ہفت روزہ جریدے نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے نظام کو کمزور یا ختم کرنے کے لیے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری امریکی مخالفانہ حکمت عملی کو آج بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق، واشنگٹن بحری محاصرے اور اقتصادی پابندیوں کے دباؤ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کا انتظار کررہا ہے، لیکن یہ اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے جو گزشتہ 25 برسوں میں امریکا کے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نیشن نے عراق اور ایران کے خلاف امریکی جنگوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ 2003 میں جارج بش کے عراق پر غیر دانشمندانہ حملے کے نتیجے میں داعش کے ظہور اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں عدم استحکام سمیت کئی منفی اور غیر متوقع نتائج سامنے آئے تھے۔

جریدے کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی اپنی پیدا کردہ غلطی نے بھی واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کردیا ہے جس پر امریکا نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ ہی اسے سمجھنے میں سنجیدہ دلچسپی لیتا دکھائی دیتا ہے۔ یمنی فورسز یقیناً آخری فریق نہیں ہوں گی جو امریکی جنگ سے پیدا ہونے والے سلامتی کے خلا سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک چوتھائی صدی تک مہنگی اور تباہ کن پالیسیوں کے بعد بھی امریکا کو دوبارہ یہ سبق سیکھنا پڑ رہا ہے کہ فوجی طاقت کے محدود اور سخت استعمال کے ذریعے دور دراز معاشروں کی تشکیلِ نو نہیں کی جاسکتی۔ جریدے کے مطابق، اس بار امریکا یہ سبق پہلے سے کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرکے سیکھ رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha