26 اگست 2026 - 04:57
ایران کے خلاف ثانوی امریکی پابندیاں؛ دو دھاری تلوار

 پابندیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسرے فریق کے خلاف ثانوی پابندیوں کا مکمل نفاذ درحقیقت عالمی معیشت کے لئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بین الاقوامی پابندیوں کے بعض ماہرین اور وکلاء کا خیال ہے کہ کچھ عوامل ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو بیان بازی اور دھمکیوں سے آگے بڑھ کر ایران کے خلاف اپنی نئی پابندیوں کی پالیسی کو مکمل طور پر نافذ نہیں کرنے دیں گے۔

واشنگٹن میں لا فرم "اکین گمپ (Akin Gump)" میں پابندیوں کے ماہر وکیل اور امریکی محکمہ خزانہ کے سابق اہلکار جیسن پرنس نے دی اٹلانٹک کو بتایا:

- تیسرے فریق کے خلاف ثانوی پابندیوں کے مکمل نفاذ کے نتائج درحقیقت عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

- یہاں تک کہ ثانوی پابندیوں کا خطرہ بھی ایک "معاشی جوا" ہے اور اس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں جو ایران سے بہت آگے نکل جائیں گے۔

- مسئلہ یہ ہے کہ ثانوی پابندیاں امریکہ کو ایسے وقت میں مزید کمزور بناتی ہیں جب اس کی اپنی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

- امریکی ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور مالیاتی شعبے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔"

مضمون کا خلاصہ:

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ثانوی پابندیوں (یعنی تیسرے ممالک کو ایران سے کاروبار کرنے پر سزا دینے) کا اعلان ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان پابندیوں کا مکمل نفاذ عالمی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا سکتا ہے اور خود امریکی معیشت، خاص طور پر ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور مالیاتی شعبوں کو شدید متاثر کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج چین ہے۔ امریکہ کو ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لئے چینی بینکوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنانا پڑے گا، یہاں تک کہ امریکی وزیر خزانہ نے ـ پابندیوں کے فوری نفاذ کی وجہ، کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ـ خود اعتراف کیا کہ وہ "عالمی مالیاتی نظام میں دھماکہ" نہیں کرنا چاہتا۔

چین کے ساتھ ایک سالہ تجارتی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے والی ہے اور کوئی بھی امریکی دباؤ چین کو نایاب زمینی عناصر جیسے اہم وسائل پر پابندیوں کے ذریعے جوابی کارروائی پر آمادہ کر سکتا ہے۔

دوسری طرف، ایران کو پابندیوں سے نمٹنے کا طویل تجربہ ہے اور وہ متبادل مالی اور تجارتی راستے تلاش کرے گا، جس کی وجہ سے ماہرین ان پابندیوں کے اثرات کو "بہت محدود" قرار دیتے ہیں۔

نیز، امریکہ سے اس کے عالمی اتحادیوں میں بڑھتی ہوئی دوری کے باعث ان پابندیوں کے نفاذ کے لئے مطلوبہ بین الاقوامی تعاون حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔

خلاصہ یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو جنگ سے نکلنے کے ایک ذریعے اور دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے، نہ یہ کہ وہ ان پابندیوں کے حقیقی نفاذ کا ارادہ رکھتی ہو، کیونکہ اس کے معاشی اور سفارتی نقصانات ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔

اور یہ کہ اس پالیسی کو عالمی تعاون کی ضرورت ہے، چنانچہ اس کا نفاذ کاغذ پر بہت آسان اور میدان عمل میں بہت دشوار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: احسان احمدی

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha