2 ستمبر 2026 - 05:19
ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 2

اسرائیل کے سابق انٹیلیجنس اہلکار نے منگل کے روز ایران کی طرف سے امریکہ کی حالیہ جارحیتوں کے جواب کی صورت میں، ٹرمپ کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اس قسم کے بیانات سے بالکل عیاں ہے کہ امریکہ اب بھی ایران کی منطق کو نہیں سمجھا اور تہران ممکنہ طور پر امریکہ کے خلاف "زیادہ تکلیف دہ" حملے کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ "امان" کے ریسرچ یونٹ میں ایران ڈویژن کے سابق سربراہ ڈینی سیترینووچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغامات جاری کرکے ایران پر آج کی امریکی جارحیتوں پر ردعمل ظاہر کیا؛ اور کہا:

دوسری اور آخری قسط:

• یہ بھی ایک اور علامت ہے کہ امریکی حکومت ابھی تک ایرانی حکومت کے طرزِ فکر کو نہیں سمجھتی۔ ٹرمپ کی تہران کو یہ دھمکی کہ 'ایران کی جوابی کارروائی کی صورت میں واشنگٹن مزید تباہ کن حملے کرے گا' ممکن نہیں ہے کہ ایران کے ردعمل کو روک سکے۔ چھ مہینوں کے تجربے سے واضح ہے کہ تہران کے خلاف اس قسم کی دھمکیاں درحقیقت، بالکل الٹا نتیجہ دے دیتی ہیں۔

• تہران کے نقطہ نظر سے، ریاستہائے متحدہ کے براہِ راست حملے کا جواب نہ دینا، اس ڈیٹرنس کے فارمولے کو کمزور کرکے رکھے گا جسے ایران مہینوں سے قائم اور مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی قائدین کو یقین ہے کہ انہیں یہ واضح کرکے جتانا چاہئے کہ امریکی فوجی کارروائی مزید، اخراجات برداشت کرنے کے بغیر، نہیں ہے۔

• اس کا مطلب ہے کہ ایران ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کرے گا اور یہاں تک کہ اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ مستقبل میں امریکی حملوں کے خلاف ڈیٹرنس بحال کرنے کے لئے "وسیع تر" یا "زیادہ تکلیف دہ" ردعمل دینا "بالکل" ضروری ہے۔

• یہ واشنگٹن کے نقطۂ نظر کا بنیادی مسئلہ ہے: وہ فرض کرتا ہے کہ کافی مضبوط دھمکیاں ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گی؛ لیکن تہران بالکل الٹا نتیجہ اخذ کر سکتا ہے یعنی (یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ) امریکہ کی دھمکی کے سامنے پیچھے ہٹنا امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کا باعث بنے گا۔ [جو درست بھی ہے]۔

• یعنی یہ کہ، ٹرمپ کی دھمکیاں اس مسئلے کو حل نہیں کریں گی۔ اگر واشنگٹن جوابی کارروائی اور متقابل ردعمل کے ایک اور چکر سے بچنا چاہتا ہے تو اسے مقابلہ ختم کرنے کے لئے ایک سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر،

• ہر فریق پچھلے دور (حملوں) کے بعد ڈيٹرنس بحال کرنے کے لئے طاقت کا استعمال جاری رکھے گا اور یہ ایک بڑھتا ہوا چکر پیدا کرے گا جس پر قابو پانا روز بروز مشکل تر ہوتا جائے گا۔

واضح رہے کہ چند گھنٹے پہلے امریکی فوج نے ایران کے خلاف فوجی جارحیتوں کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا اور جنوبی ایران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے ہفتے کے آغاز میں بھی ایران کے جزیرے لارک پر حملے کئے تھے، جن کا ایران کی مسلح افواج نے وسیع پیمانے پر سخت جواب دیا تھا اور اس بار بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود، امریکہ کے نئے حملوں کا بھی وسیع پیمانے پر جواب دیا گیا۔

اس سے قبل، ایک ایرانی اہلکار نے پیر کے روز روئٹرز نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ہر امریکی حملے کا جواب "دسوں گنا شدید" طاقت سے دیا جائے گا اور ایرانی فوجی اور سینئر ڈپلومیٹس دونوں نے اپنے موقف میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو مغربی ایشیا کے علاقے سے جانا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: محمد رضا جعفری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha