2 ستمبر 2026 - 05:10
ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 1

اسرائیل کے سابق انٹیلیجنس اہلکار نے منگل کے روز ایران کی طرف سے امریکہ کی حالیہ جارحیتوں کے جواب کی صورت میں، ٹرمپ کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اس قسم کے بیانات سے بالکل عیاں ہے کہ امریکہ اب بھی ایران کی منطق کو نہیں سمجھا اور تہران ممکنہ طور پر امریکہ کے خلاف "زیادہ تکلیف دہ" حملے کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ "امان" کے ریسرچ یونٹ میں ایران ڈویژن کے سابق سربراہ ڈینی سیترینووچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغامات جاری کرکے ایران پر آج کی امریکی جارحیتوں پر ردعمل ظاہر کیا؛ اور کہا:

• امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنا نقطہ نظر ایک بار پھر تبدیل کر لیا ہے۔ واشنگٹن مسلسل اپنے اوزار بدل رہا ہے، بغیر اس کے کہ کبھی واضح طور پر ہدف کا تعین کرے۔

• پہلے، ریاستہائے متحدہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کی، لیکن اسے معلوم ہؤا کہ اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنا نہ تو مختصر مدت میں ممکن ہے، اور نہ ہی مجموعی طور پر قابلِ حصول۔ پھر اس نے خود حکومت کو زیادہ شدید اور صریح دھمکیاں دیں، لیکن ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور مزاحمت کی۔

پہلی قسط | ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 1

• اس کے بعد، واشنگٹن نے سفارت کاری کا رخ کیا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے بھاری معاشی اخراجات عائد ہوتے تھے۔ لیکن وہ مفاہمت ٹوٹ گئی، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور ریاستہائے متحدہ دوبارہ بے مثال فوجی حملوں کی طرف پلٹ گیا۔

• جب اس نقطہ نظر سے بھی جنگ میں کوئی تزویراتی پیش رفت نہیں ہوئی تو واشنگٹن نے ایک بار پھر راستہ بدلا: اس بار اس کے خیال میں، معاشی دباؤ اور بحری ناکہ بندی کو کارگر ہونا تھا!

پہلی قسط | ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 1

• اب، معاشی دباؤ کو نئی حکمت عملی کے طور پر متعارف کرائے جانے کے صرف چند ہی دن بعد، ریاستہائے متحدہ ایک بار پھر ایرانی اہداف پر حملے کر رہا ہے۔

• یہ کوئی ایک تزویراتی حکمت عملی (Strategy) نہیں ہے، بلکہ تاکتیکی اور وقتی ردعمل کا ایک سلسلہ (سائیکل) ہے جو ان مسائل کی وجہ سے پیدا ہؤا ہے جو پچھلے وقتی رد عمل کے ایک سلسلے سے پیدا ہوئے تھے۔

• اس جنگ کے چھ ماہ گذرنے کے بعد، بنیادی سوال ابھی تک بلا جواب رہ گیا ہے یہ کہ: امریکی حکومت اصل میں (exactly) کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ حکومت کی تبدیلی؟ ایران کا ہتھیار ڈال دینا؟ نیا جوہری معاہدہ؟ ایران کی تیل برآمدات کی مستقل بندش؟ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی مکمل آزادی؟ یا محض لامتنازع تنازع کا انتظام؟ جب تک واشنگٹن اس سوال کا جواب نہیں دے سکے گیا، تو

• بلاشبہ تاکتیکی کامیابیاں اسٹراٹیجک فتح کا باعث نہیں بنیں گی۔ وہ محض تقابل کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کریں گے اور اختتام پر مطلوبہ سیاسی صورت حال کے واضح تعین کے بغیر، یہ جنگ جاری رہے گی؛ شاید اس کی میں کمی بیشی آجائے، لیکن اس کے خاتمے کے لئے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔

پہلی قسط | ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 1

• ٹرمپ نے امریکی جارحیتوں کے آغاز کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں ایران سے کہا کہ وہ ان حملوں کا جواب نہ دے اور خبردار کیا کہ ایران کا ردعمل مزید حملوں کا باعث بنے گا، وہی دھمکی جو جنگ کے دوران کئی بار دہرائی گئی اور لاحاصل رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: محمد رضا جعفری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

پہلی قسط | ایران کے بارے میں امریکی غلط اندازے جنگ کے خاتمے میں بنیادی رکاوٹ - 1

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha