اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ فوج ڈین ڈریسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگست کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات اور فوجی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں پر تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ڈریسکول کو نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ پینٹاگون سے رخصت ہونے والے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور اہم عہدیدار بن گئے ہیں۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج خطے میں جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں تعینات ہے۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق ڈریسکول امریکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم فوج کے ڈھانچے، جنگی تیاری اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی برطرفیوں کے معاملے پر وزیرِ جنگ پیٹ ہیگست کے ساتھ ان کے اختلافات بڑھتے گئے۔
ذرائع کے مطابق ڈریسکول نے متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے کے فیصلوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ہیگست ڈریسکول کو محکمۂ دفاع کی بیوروکریسی میں اپنے لیے ایک رکاوٹ سمجھتے تھے اور کافی عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانے کے خواہاں تھے، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس سے ڈریسکول کی قربت کے باعث یہ معاملہ پیچیدہ رہا۔
دریں اثنا، اطلاعات ہیں کہ امریکی وزارتِ فوج کے قائم مقام نائب وزیر ڈیو فٹزجیرالڈ بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا ممکنہ استعفیٰ پینٹاگون کی اعلیٰ سطح پر جاری اکھاڑ پچھاڑ اور اختلافات کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈریسکول اس سے قبل امریکی دفاعی صنعت پر بھی سخت تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے بڑے دفاعی ٹھیکیداروں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکی عوام اور فوج کے مفادات کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔
امریکی وزیرِ فوج کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کو فوجی انتظام، قیادت اور علاقائی جنگی حالات کے حوالے سے اہم چیلنجز درپیش ہیں، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کے دفاعی ڈھانچے میں بڑھتے اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ