18 اگست 2026 - 22:17
سعودی-اماراتی جھگڑا بینکاری تعلقات تک سرایت کر گیا

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے امارات کے ساتھ بینکاری لین دین کی نگرانی اُن ممالک کے ساتھ لین دین کی طرح سخت کر دی ہے جو مالی جرائم کے ملزم ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روئٹرز نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے امارات کو مالی منتقلیوں پر نگرانیاں مقرر کی ہیں جو عام طور پر اُن ممالک کے لئے مخصوص ہیں جنہیں غیرقانونی مالی سرگرمیوں میں مصروف اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ایک ذریعے کے مطابق یہ اقدام امارات کے رہنماؤں کے لئے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت کی یاددہانی کے لئے ایک "عمدا پیغام" ہے۔

مئی میں فنانشل ٹائمز نے ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خبر دی تھی۔

جولائی میں بھی بلومبرگ اور فنانشل ٹائمز نے لکھا تھا کہ اماراتی کمپنیوں کو سعودی عرب میں اپنے بینک اکاؤنٹس سے امارات تک رقم منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کئی سالوں سے یہ دونوں ممالک تیل کی پیداواری مقدار اور جغرافیائی-سیاسی اثر و رسوخ پر اختلاف رکھتے ہیں، جو گذشتہ سال کے آخر میں یمن کی جنگ میں مخالف فریقوں کی حمایت کے معاملے پر مزید بڑھ گہرے ہو گئے ہیں۔

اب روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جسے باخبر ذرائع پہلے سے زیادہ شدید قرار دیتے ہیں۔

سعودی عرب کے مرکزی بینک نے ملک کے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ امارات کے ساتھ تصفیہ جات کے دوران منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر مالی جرائم سے متعلق زیادہ سے زیادہ جانچ پڑتال کریں۔

اگرچہ امارات کے کاروباری افراد کرنسی کی منتقلی یا اس کی واپسی میں تاخیر کی شکایت کر رہے ہیں، تاہم سعودی عرب کا مرکزی بینک کہتا ہے کہ "کسی خاص ملک کے خلاف کوئی براہِ راست پابندی عائد نہیں ہوئی ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha