2 ستمبر 2026 - 16:09
بحرین میں مذہبی آزادی خطرے میں؛ علما، حسینیہ، مواکب اور مذہبی شعائر بھی پابندیوں کی زد میں

بحرینی کارکن زینب علی نے ملک میں درجنوں شیعہ علما اور مذہبی شخصیات کے خلاف جاری مقدمات پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بحرینی حکام کا دباؤ صرف گرفتاریوں اور مقدمات تک محدود نہیں رہا بلکہ خطیبوں، ذاکروں، ائمہ مساجد، حسینیوں، مواکب اور شیعہ مذہبی شعائر تک پھیل گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں درجنوں شیعہ علما کے خلاف مقدمات کی کارروائی جاری ہے۔ اس صورتحال پر ایک بحرینی کارکن نے ملک میں مذہبی دباؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زینب علی نے ایک رپورٹ میں عدالتوں کی طویل کارروائیوں، 40 سے زائد علما کی گرفتاریوں اور بعض مذہبی سرگرمیوں و مقامات پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا ان افراد کے خلاف کسی واضح اقدام کے ارتکاب پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں یا ان کی مذہبی سرگرمیاں اور عقائد ہی ان کے خلاف کارروائی کی بنیاد بن گئے ہیں۔

انہوں نے بحرین میں شیعہ علما کے خلاف جاری طویل عدالتی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض عدالتی سماعتیں 13 گھنٹے سے بھی زیادہ جاری رہی ہیں۔

زینب علی کے مطابق، مقدمات کو طول دینے اور علما کے خلاف کیے جانے والے مختلف اقدامات سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ معاملہ صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ ایک مذہبی طبقے کی مذہبی سرگرمیوں اور سماجی کردار تک بھی پھیل رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر 2024 کے اواخر سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو دباؤ صرف علما تک محدود نہیں رہا بلکہ خطیبوں، ذاکروں، ائمہ مساجد، حسینیوں کے منتظمین اور مذہبی شعائر سے وابستہ کارکنوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بحرینی کارکن کے مطابق، یہ سلسلہ مزید وسیع ہوا اور رواں سال 9 مئی کو 40 سے زائد علما کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے، جن میں متعدد ممتاز علما، مبلغین اور حوزہ علمیہ کے اساتذہ بھی شامل تھے۔

زینب علی نے بعض افراد کے خلاف عائد الزامات کی نوعیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں الزامات کسی واضح مجرمانہ اقدام کے بجائے ان کی مذہبی سرگرمیوں، تقاریر، عقائد اور مذہبی شعائر کی ادائیگی سے متعلق دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ آیا ان افراد کے خلاف ٹھوس شواہد اور ان سے منسوب مخصوص اقدامات کی بنیاد پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں یا ان کا مذہبی تعلق اور دینی سرگرمیاں بھی عدالتی کارروائی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

بحرینی کارکن نے بعض انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے علما کے خلاف مقدمات کے دوران کیے جانے والے سلوک سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، بعض رپورٹس میں نامناسب رویے اور کچھ بیانات پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو ان کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ملزمان کے منصفانہ ٹرائل سمیت ان کے قانونی حقوق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں مذہبی مقامات اور شعائر پر عائد مبینہ پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

زینب علی نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں حسینی مواکب کے انعقاد، حسینیوں میں بیرونی صوتی آلات کے استعمال اور بعض مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق، اوقاف اور مجالس و حسینیوں سے متعلق املاک کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اقدامات نے بھی بحرینی شیعوں میں تشویش پیدا کی ہے۔

انہوں نے بعض شہریوں کو ایران اور عراق میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر سے روکنے سے متعلق دعووں کا بھی ذکر کیا۔

زینب علی نے علما کی گرفتاری، مذہبی شخصیات کے خلاف مقدمات، خطیبوں اور ذاکروں پر دباؤ اور حسینیوں، مواکب اور مذہبی شعائر پر عائد مبینہ پابندیوں کو ایک ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر یہ اقدامات مخصوص جرائم اور منصفانہ عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کیے گئے ہیں تو افراد کی ذمہ داری کا تعین عدالتی شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تاہم اگر مذہبی امتیاز اور پُرامن مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی بات ثابت ہوتی ہے تو معاملہ محض ایک عدالتی مقدمے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہری حقوق اور مذہبی رسومات کی آزادی سے متعلق ایک اہم مسئلہ بن جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha