بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیلی چینل i12 نے کل منگل کے روز رات گئے، اعلان کیا کہ یہ ملاقاتیں مقبوضہ فلسطین یا امارات میں نہیں بلکہ ایک تیسرے ملک میں ـ جس کا نام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، ـ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے کے دوران ہوئی ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، ان ملاقاتوں میں اماراتی حکام نے اسرائیلی حکام کے ساتھ یک صدا ہوکر، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر شدید مخالفت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران اس عرصے میں اپنی معیشت بہتر بنائے گا اور امریکہ کو کوئی حقیقی رعایت نہيں دے گا۔
اسرائیلی چینل i12 نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں نے ایران کے خلاف بین الاقوامی فریم ورکس اور فورموں میں اقدامات کے لئے ہم آہنگی کے حوالے سے منصوبوں پر غور کیا۔
فریقین نے البتہ اس بات پر اتفاق کیا کہ ان میں سے کوئی بھی اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی پیشگی ہم آہنگی کے بغیر عمل میں نہیں لایا جائے گا۔
اس عبرانی چینل نے مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امارات، خلیج فارس کے بعض دیگر عرب ممالک کے برعکس، ایران کے ساتھ زیادہ سخت رویہ رکھتا ہے اور ایران کی موجودہ پالیسیوں میں اس ملک کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کو ممکن نہيں سمجھتا۔
واضح رہے کہ اماراتی حکام ایرانی حکام کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور خفیہ یہود نوازیوں کے باوجود، ظاہری دنیا میں نہ صرف ایران کی چاپلوسی کرتا ہے بلکہ اور جنگ کی صورت میں ایران کے حملوں سے بچنے کے لئے کھربوں ڈالر ادا کرنے کی پیشکشیں بھی دے رہا ہے۔
عبرانی ذرائع ابلاغ اس سے قبل ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیلی اعلیٰ سیاسی اور فوجی حکام کے امارات کے دورے کی خبریں دیتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امارات صہیونیوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو خفیہ رکھنے پر اصرار کرتا رہتا ہے اور صہیونی میڈيا کی طرف سے اس قسم کی خبروں پر سیخ پا ہے لیکن صہیونی ریاست ان ملاقاتوں کو آشکار کرتی ہے کیونکہ یہ ان کے لئے ایک سیاست رعایت سمجھی جاتی ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ