اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے سابق وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے حشد الشعبی کے مراکز پر مبینہ امریکی۔سعودی مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں السودانی نے کہا کہ حشد الشعبی کے سرکاری مراکز کو نشانہ بنانا دراصل عراق کی ریاست اور اس کی خودمختاری پر حملہ ہے، جسے کسی بھی صورت میں جائز یا قابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
السودانی نے عراقی سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی خودمختاری کے دفاع، قومی سلامتی کے تحفظ اور مستقبل میں سکیورٹی و عسکری اداروں پر حملوں کی روک تھام کے لیے متحد اور فیصلہ کن قومی مؤقف اختیار کرے۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے الگ الگ بیانات میں عراق میں مزاحمتی گروہوں کے متعدد مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنانے کی مشترکہ کارروائی کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
ادھر حشد الشعبی نے اپنے بیان میں کہا کہ بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالی میں اس کے سرکاری مراکز کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں اب تک 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ فوجی سازوسامان، گاڑیوں اور تنصیبات کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
حشد الشعبی کے مطابق نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے اور ہلاکتوں و نقصانات کے اعداد و شمار ابتدائی ہیں، جنہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ