بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز (E. Michael Jones) نے اس سیمینار کے مقرر کے طور پرکہا:
۔۔۔ ٹوڈ (Todd) دوسرے شعبوں میں اپنی تیزبینی کے باوجود، یہ نہیں سمجھ سکا کہ پروٹسٹنٹ ازم کا غیر تحریری قانون "شیطان پرستی" ہے۔ امام خمینی کا یہ دعویٰ ـ کہ "امریکہ بڑا شیطان ہے"، ـ عملی طور پر امریکہ کے ہر ایک بڑے انقلابی کے ذریعے ثابت ہوتا ہے؛ تام پین (تھامس پین Thomas Paine) سے لے کر " میلکم ایکس (Malcolm X)" تک۔
ٹوڈ (Todd) کہتا ہے: امریکی سلطنت کی شکست و ریخت پروٹسٹنٹ ازم کے غائب ہوجانے سے جنم لے رہی ہے، کیونکہ وہ پروٹسٹنٹ ازم کو اس سلطنت کا غیر تحریری قانون کا نام دیتا ہے۔ یوکرین میں امریکہ کی موجودہ شکست، کا سبب اس کے عیسائی ثقافتی بنیاد کا اوجھل ہوجانا ہے؛ "ایسی عظیم تاریخی حقیقت جو امریکہ کے حکمران طبقوں کے پس کر نابود [اور زوال پذیر] ہونے کی وضاحت کرتی ہے۔" پروٹسٹنٹ ازم ـ جو "بہت حد تک مغربی معاشی طاقت [کا مضبوط نقطہ] تھا، ـ مر چکا ہے۔" امریکہ اور برطانیہ ایک مرکز گریز نرگسی لغزش سے دوچار، اور بعدازاں لاوجودیّت کے قائل (Nihilist)" ہو گئے ہیں، جس نے موجودہ سلطنت کو بھی اور اس کے سلف [برطانیہ] کو بھی "صفر حکومت (Government Zero)" تک پہنچایا ہے؛ جو ٹوڈ (Todd) کی تعریف کے مطابق، ایک ایسی قومی-حکومت ہے جو "اپنی حقیقی اقدار کی رو سے، ڈھانچہ بند نہیں ہوئی ہے"، کیونکہ پروٹسٹنٹنٹ کے ہاں کے کام کے اخلاقیات اور وہ احساس ذمہ داری جس کے ذریعے یہ ماضی میں لوگوں کو میدان میں لاتا تھا، اوجھل ہو چکا ہے۔
ٹوڈ (Todd) اینگلو-امریکن امپائر کو تشکیل دینے والے انقلابات کی فہرست میں ایک چیز کو بھول جاتا ہے اور وہ انگلستان میں سنہ 1640ع کا انقلابی عشرہ ہے جو " انقلاب برطانیہ 1668" (شاندار انقلاب = Glorious Revolution) سے 40 سال پہلے واقع ہؤا۔ ٹوڈ (Todd)، کسی بھی وجہ سے، انگلستان اور نیو انگلینڈ کی انقلابی روح کے نمایاں نمونے ـ یعنی پیوریٹنز (Puritans) ـ کو نظر انداز کرتا ہے، حالانکہ پیورنٹز دوہری اہمیت کے حامل ہیں: نہ صرف اس لئے کہ وہ یہودی انقلابی روح سے اعلانیہ اور واضح تعلق رکھتے ہیں، بلکہ اس بنا پر کہ ایک مشہور ترین پیورٹن جان ملٹن تھا؛ جو گمشدہ بہشت نامی پرورٹسٹینٹنسٹ رزمیہ کا مصنف جو شیطان کو پروٹسٹنٹ ازم کی حامی قدیس (saint) کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ولیم بلیک (William Blake) کا بھی اور پرسی بیشی شیلی (Percy Bysshe Shelley) کا بھی یہی خیال ہے کہ گمشدہ جنت کا ہیرو "شیطان" ہے۔ جب شیلی آئرلینڈ میں بغاوت کی آگ بھڑکانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اس کو "جہنم میں شیطانوں کو بیدار کرنے کے لئے شیطانی نعرے سے بہتر محرک نہيں ملتا؛ یہ کہ "اے شیطانو اٹھو، ورنہ تم ابد تک مغضوب رہو گے۔"
ٹوڈ (Todd) اشارتاً بتاتا ہے کہ شیطان پرستی "صفر حکومت (Government Zero)" کا غیر تحریری قانون ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایک "شیطان پرستانہ رسم" (ایک قسم کی اقتصادی-فلسفیانہ شیطان پرستی) "واسپ اشرافیہ" (White Anglo - Saxon Elites Protestant = سفید فام پروٹسٹنٹ اینگلو سیکسن اشرافیہ) کے دور سے گذرنے اور "شیطانی کنیسہ (Synagogue of Satan)" کے طور پر امریکہ کے نئے حکمران طبقے کے برسراقتدار آنے کا لمحہ ہے۔ میکس ویبر سے مستعار لی گئی ان سطحی زمرہ بندیوں نے (Todd) کو اندھا کر دیا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھ پاتا کہ نہ صرف پروٹسٹنٹزم کا غیر تحریری قانون شیطان پرستی ہے، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اُس وقت "شیطان بزرگ" (بڑا شیطانِ) بنا جب یہودیوں نے اس کی ثقافت کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ ٹوڈ (Todd) ـ جو خود ایک یہودی ہے ـ بضد ہے کہ "دنیا کی موجودہ افراتفری" کے ادراک کے لئے "حتمی توضیحی کنجی" (قطعی ثبوت) پروٹسٹنٹزم کا غائب ہو جانا ہے؛ لیکن وہ یہ کہنے سے گریز کرتا ہے کہ کون لوگ "امریکہ کے نئے حکمران طبقے کے طور پر" واسپوں (سفید پروٹسٹنٹ اینگلو سیکسن) کے جانشین بنے۔
ٹوڈ (Todd) دعویٰ کرتا ہے کہ "مذہبی معدومیت" (Religious extinction)، "سماجی اخلاقیات کے اوجھل، اور اجتماعی احساس کے ناپید ہوجانے" اور اس کی جگہ مرکزگریز (Centrifugal) جغرافیائی توسیع کے ابھر آنے اور سسٹم کے اصل مرکز کے انقسام اور ٹوٹ پھوٹ" کا سبب بنی ہے۔
[[[[[، گویا کہ یہ ایک غیر ذاتی (Nonpersonal) [رسمی] عمل تھا جس کا سبب فطرت تھی اور اس میں انسانی عامل ملوث نہیں تھا! (اور اس کے حوالے سے کسی شخص یا گروپ یا فکری دھارے کو ملزم نہیں ٹہرایا جا سکتا). حالانکہ جب سے، کتاب "گمشدہ جنت" کی ابتداء میں، شیطان نے اپنا پہلا خطاب کیا تھا، شیطان پرستی اینگلو-امریکن سلطنت کی پیشقدمی کا راستہ سمجھی جاتی تھی۔ ملٹن کی بہادرانہ شیطان پرستی، پہلی مرتبہ، اس خطاب کے آغاز میں آشکار ہو جاتی ہے؛ جب شیطان، ـ جس کو جنت سے نکال پھینکا گیا تھاا، ـ آگ کے سمندر میں [نیند سے]جاگ جاتا ہے! ـ جو اب نہ صرف اس کا ابدی گھر بنا ہؤا ہے بلکہ اس کی بادشاہی کی قلمرو بھی ہے ـ شیطان اپنی بات جنت سے وداع، سے شروع کرتا ہے، لیکن بہت جلد اصلی موضوع کی طرف آتا ہے:
وداع اے خوش و خرم کھیتیو [جنت]
جن میں ابد تک خوشی ہے
سلام ہو وحشت پر، سلام
دوزخی دنیا کو؛ اور تجھے اے جہنم کی تہہ
اپنے نئے مالک کو قبول کرلے؛ جو لاتا ہے اپنے ساتھ
ایسے ذہن کو جس کو وقت اور مقام دگرگوں نہیں کرتا
ذہن خود ایک مقام ہے اور اپنے اندر
جہنم کو جنت بنا سکتا ہے؛ اور جنت کو جہنم
کیا فرق پڑتا ہے کہ کہاں، اگر میں وہاں موجود ہوں تو؟
اور میں وہ ہوں جو نہیں ہوں کمتر کسی سے [یعنی خدا سے!]
کیونکہ [مطلق طاقت کے] صاعفے نے اس کو پہلے سے بڑا [اور برتر] کر دیا ہے
کم از کم یہاں، ہم آزاد تو ہونگے
قادر مطلق نے اس جگہ [جہنم] کو کسی توقع کے لئے نہیں بنایا
اور وہ ہمیں یہاں سے نکال باہر نہیں کرے گا
ہم یہاں پرامن طریقے سے حکومت کر سکتے ہیں
اور میرے خیال میں
حکومت کے لئے جاہ طلبی میں کوئی حرج نہیں ہے، حتی جہنم کے اندر بھی
جہنم میں حکومت، جنت میں خدمت سے، بہتر ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ پیورٹنز جب امریکہ پہنچے تو کہنے لگے: "کم از کم یہاں، ہم پرامن طریقے سے حکومت کر سکتے ہیں۔"
سنہ 1660ع، پیورٹن آمر "اولیور کرامویل (Oliver Cromwell) کی موت کے بعد، انگلستان میں ییورٹنزم کی انتہاپسندی سے نفرت کی ایک لہر اٹھی، اور اس دور کا نمایاں ترین نمونہ وہ غنڈے تھے جنہوں نے کرامویل کا جسد خاکی قبر سے نکالا اور تختۂ دار پر لٹکایا۔ اس حرمت شکنی کے دوران انہوں نے کرامویل کا سر تن سے جدا کیا اور آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کا سر کہاں لے جایا گیا۔ گوکہ اس کی انقلابی روح اس وقت انگلستان سے رخت سفر باندھ کر چلی گئی تھی جب اس کا سر ہنوز اس کے کندھوں پر تھا اور بحر اوقیانوس کی فضا سے گذر کر میساچوسٹس (Massachusetts) پہنچ گئی؛ جہاں وہ ایک صدی بعد، امریکی انقلاب کی قوتِ محرکہ بن گئی۔ اٹھارہویں صدی کے دوران شیطان کی تقریر ایک انقلابی مانیفست منشور بن کر جو "امریکہ اور فرانس" اور ہیٹی (Haiti) کی طرح کی فرانسیسی نوآبادیوں میں انقلابات کی تیزرفتاری کا سبب بن گئی۔ جو بھی جان ملٹن کی زندگی سے مختصر سے واقفیت رکھتا ہو، وہ سجمھ لے گا کہ داستان کا یہ پلاٹ (یا بیانیہ) سنہ 1640ع کی انقلابی خانہ جنگی کی یاددہانی کراتا ہے جس نے انگلستان کے تخت و تاج پر لرزہ طاری کیا اور سنہ 1649ع میں اس کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ