27 جون 2026 - 19:21
امام حسینؑ پوری انسانیت کے محسن ہیں، یزید پر لعنت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔علامہ مقصود علی ڈومکی

پریا کماری پاکستان کی بیٹی ہے قوم کی بیٹی کی فوری بازیابی حکومت کی ذمہ داری ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے پنو عاقل میں منعقدہ سالانہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام پوری عالمِ انسانیت کے محسن، رہبر اور نجات دہندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا کے انسان رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر امام حسینؑ سے محبت کرتے ہیں۔ کربلا آج بھی عالمِ انسانیت کا مرکز و محور ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے کروڑوں عاشقانِ امام حسینؑ حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یزید پر لعنت کرنا قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں پر لعنت فرمائی ہے، اور احادیثِ نبویؐ میں اہلِ بیتِ رسولؐ سے دشمنی اور ان پر ظلم کرنے والوں کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے۔ ایسے میں یزید پر لعنت کو متنازعہ مسئلہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں اور ان کے ظلم پر راضی رہنے والوں سے براءت کا اظہار امتِ مسلمہ کا مسلمہ عقیدہ ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سندھ کی سرزمین محبت، رواداری اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے عقیدت رکھنے والوں کی دھرتی ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ سندھ کی بیٹی اور پاکستان کی بیٹی پریا کماری کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ وہ سبیلِ امام حسین علیہ السلام تقسیم کر رہی تھی۔ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اس معصوم بچی کا بازیاب نہ ہونا حکومتِ پاکستان اور حکومتِ سندھ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پریا کماری کو فوری طور پر بازیاب کر کے اس کے والدین کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان، صوبہ سندھ، پریا کماری اور دیگر اغوا شدہ بیٹیوں کی بازیابی کے لیے جاری پرامن احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہم سندھ کے باوفا بیٹے ہیں، سندھ کے مظلوم عوام کے ترجمان ہیں، اور ہر مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا اپنی دینی، اخلاقی، قومی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین ہر مظلوم کی داد رسی اور انصاف کی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha