بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ماہر معاشیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر، ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffry Sachs) نے کہا:
- طے یہ تھا کہ یہ معاملہ ایک ہی دن میں ختم ہوجائے۔
- مورخہ 28 فروری 2028ع کو طے یہ تھا کہ ایران کے رہبر معظم کو قتل کیا جائے، حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے، ایران پر قبضہ کیا جائے اور سب کچھ بخوبی و خوشی ختم ہوجائے۔
- یہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کا مشترکہ وہم تھا۔
- لیکن یہ وہم شکست کھا گیا اور اس کے بعد ہم ایسی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں کہ امریکہ عملی طور پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکا ہے۔
- ایران نے اسی لمحے تک جوابی کاروائیوں اور کی صلاحیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔
- جب تک یہ رسوائی اور یہ المیہ جاری ہے دنیا میں توانائی کا بحران جاری رہے گا۔
- میں آپ سے متفق ہوں؛ ٹرمپ نکلنا چاہتا تھا اور میرا خیال ہے کہ ہم ایک انتہائی نازک سی بنیادوں پر شاید اس بحران سے نکل سکیں۔
- گوکہ اسرائیل اسے کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا؛ انہوں نے اسی وقت بھی جنوبی لبنان میں حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
- لیکن ٹرمپ نکلنے کا خواہاں ہے، اور حالیہ ایام میں اس نے بے مثال لب و لہجے میں نیتن یاہو کو واضح انتباہات دیئے ہیں کہ: "اس کھیل میں خلل نہ ڈالو!
- اب سب سمجھ رہے ہیں کہ امریکہ مزید، خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی سلامتی کا حقیقی ضامن نہیں ہے۔
- یقینا ایران ایک طاقتور اور جدید فوج اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ برقرار رہے گا؛
- ایک ایسی فوج جس کے پاس اپنے دفاع اور اسرائیل سے بدلہ لینے کے لئے ہائپرسونک میزائل داغنے کی صلاحیت ہے؛ چنانچہ
- یہ ایک تبدیلی ہے۔
- البتہ اسرائیل اس وقت دنیا کے ہر ملک کے نزدیک قابل نفرت ہے اور پیو انسٹی ٹیوٹ کے حالیہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اپنی کارکردگی نے اتنی ساری نفرت کما لی ہے۔
- ریاستہائے متحدہ کی باری آتی ہے، تو ٹرمپ بھی تقریبا دنیا کے ہر حصے میں قابل نفرت ہے؛
- حتی کہ امریکی ساکھ یورپی ممالک میں بھی ایک حقیقی اتحادی کے طور پر، برباد ہو گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ