اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدوں فارن افیئرز اور نیشنل انٹرسٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے امریکی فوجی پالیسی کے سابق اصولوں اور برطانیہ کے سابق دفاعی منصوبہ بندی کے ایک اصول کا حوالہ دیا ہے۔
فارن افیئرز میں شائع ہونے والے مضمون میں کوری شاکے نے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ نے ایک بار پھر پاول ڈاکٹرائن پر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اصول سابق امریکی وزیر دفاع کاسپر وائن برگر نے وضع کیا تھا اور بعد میں سابق وزیر خارجہ و جنرل کولن پاول نے اسے مزید وسعت دی۔
اس اصول کے مطابق امریکہ کو فوجی طاقت اسی وقت استعمال کرنی چاہیے جب ملکی مفادات کو حقیقی خطرہ لاحق ہو، جنگ کے مقاصد واضح ہوں، مطلوبہ وسائل دستیاب ہوں، ملک کے اندر اور عالمی سطح پر حمایت حاصل ہو، جنگ سے نکلنے کی حکمتِ عملی پہلے سے طے ہو اور فیصلہ کن فوجی طاقت استعمال کی جائے تاکہ کامیابی یقینی بنائی جاسکے۔
طویل جنگ میں پھنسنے کا خطرہ
کوری شاکے کے مطابق ٹرمپ حکومت کا تیز رفتار اور مختصر جنگوں کی طرف رجحان ان بنیادی اصولوں کو نظرانداز کرتا ہے اور امریکہ کے طویل اور غیر متوقع تنازعات میں پھنسنے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
ان کے بقول پاول ڈاکٹرائن کا بنیادی مقصد امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں کودنے سے روکنا تھا تاکہ فوجی طاقت کو واضح سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی، ملکی و عالمی حمایت اور کم سے کم انسانی نقصان کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
اگرچہ پاول ڈاکٹرائن کو ہمیشہ تنقید کا سامنا رہا، تاہم کولن پاول اپنی زندگی کے آخری دور تک اس کے دفاع پر قائم رہے اور ان کا مؤقف تھا کہ امریکی فوج کو ایسے تنازعات میں نہیں جھونکنا چاہیے جن کے مقاصد واضح نہ ہوں۔ تاہم بعد میں وہ افغانستان اور عراق کی جنگوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک رہے، جو ان کے اپنے وضع کردہ اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں تھیں۔
شاکے کے مطابق ٹرمپ حکومت نے بھی ان اصولوں کو نظرانداز کیا اور واضح مقاصد، کانگریس کی منظوری اور جنگ سے نکلنے کی حکمتِ عملی کے بغیر ایران کے خلاف جنگ شروع کردی، جبکہ سفارتی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھیں۔
ان کے مطابق جنگ کے نتائج نے ظاہر کیا کہ ان اصولوں کو نظرانداز کرنے سے امریکہ کے طویل اور تھکا دینے والے جنگی تنازعات میں الجھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے پاول ڈاکٹرائن آج بھی امریکہ کے لیے جنگ میں داخل ہونے کے وقت اور طریقہ کار کا ایک اہم فریم ورک ہوسکتا ہے۔
ناکافی وسائل کے ساتھ جنگ میں داخلہ
شاکے نے لکھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا امریکی قومی سلامتی کے اہم مفادات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ۲۰۲۵ء میں بارہ روزہ جنگ کے دوران واشنگٹن کے حملوں کا مقصد اگرچہ واضح تھا اور جنگ سے نکلنے کی حکمتِ عملی بھی موجود تھی، تاہم انہیں امریکی کانگریس کی منظوری اور مکمل عالمی حمایت حاصل نہیں تھی۔
ان کے مطابق فروری ۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ان خصوصیات سے محروم تھا۔ اس مرتبہ واشنگٹن نے ایران کے جوہری، میزائل اور بحری پروگرام کو تباہ کرنے، خطے میں تہران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے اور بالواسطہ طور پر ایران کے سیاسی نظام میں تبدیلی جیسے وسیع اہداف مقرر کیے، لیکن ان مقاصد کے حصول کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔
شاکے نے ٹرمپ حکومت کے مؤقف میں تضاد کی بھی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق امریکی صدر پہلے ہی دعویٰ کرچکے تھے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد دوبارہ جنگ شروع کرنے کی ضرورت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین کے اس انتباہ کا بھی حوالہ دیا کہ فوجی کارروائی کی کامیابی کے لیے اتحادیوں کا تعاون ضروری ہوگا۔ شاکے کے مطابق یہ صورتحال جنگ کی منصوبہ بندی میں کمزوری اور فوجی اہداف اور دستیاب وسائل کے درمیان عدم مطابقت کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ حکومت نے جنگ کے ممکنہ اثرات، جن میں آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی معیشت میں خلل، امریکی فوجی تیاری میں کمی، اسلحے کے ذخائر میں کمی اور واشنگٹن کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری شامل ہے، کا بھی درست اندازہ نہیں لگایا۔
اتحادیوں کا اعتماد کم ہوا
شاکے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے امریکی اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا اور ان کے اندر واشنگٹن کی مشاورت اور اپنے مفادات کے دفاع کی صلاحیت کے حوالے سے شکوک پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے پاول ڈاکٹرائن کے ایک بنیادی اصول یعنی فوجی طاقت کو آخری راستے کے طور پر استعمال کرنے کے اصول کی بھی خلاف ورزی کی، کیونکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب مذاکرات جاری تھے اور اقتصادی دباؤ کے تمام ذرائع بھی ختم نہیں ہوئے تھے۔
شاکے کے مطابق ٹرمپ حکومت نے ایک مستقل حکمتِ عملی کے تحت جنگ کا مسلسل جائزہ لینے کے اصول کو بھی نظرانداز کیا۔ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے متضاد بیانات، کبھی کشیدگی بڑھانے اور کبھی پسپائی اختیار کرنے، جنگ کے اختتام کے حوالے سے واضح حکمتِ عملی کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ٹرمپ حکومت امریکی عوام اور کانگریس کو بھی ایران کے خلاف جنگ کی مکمل حمایت پر آمادہ نہیں کرسکی۔ مختلف جائزوں میں عوامی حمایت میں کمی اور جنگ کی مخالفت میں اضافے کا عندیہ دیا گیا، جبکہ حکومت نے فتح کے اعلان کے لیے کوئی واضح معیار بھی پیش نہیں کیا۔
شاکے کے مطابق امریکہ کا ابتدائی ہدف ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی سے تبدیل ہوکر ایران کی بعض بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے تک محدود ہوگیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واضح اور مستقل جنگی اہداف کی عدم موجودگی نے امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کیا اور کامیاب اختتام کے امکانات کو محدود کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ کن فتح کے عزم کے فقدان نے جنگ سے نکلنے کی حکمتِ عملی کو بھی غیر واضح کردیا، حالانکہ یہ پاول ڈاکٹرائن کے اہم ترین اصولوں میں شامل ہے۔
شاکے کے مطابق امریکہ کے جنگی اہداف میں توسیع اور جوابی حملوں میں اضافے کے باوجود تنازع کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں ہوئی، جبکہ ایران کے سیاسی نظام کے خاتمے کی امید بھی حقیقت پسندانہ ثابت نہیں ہوئی۔ دوسری جانب اتحادیوں کو نظرانداز کرنے سے جنگ کے لیے عالمی حمایت مزید کم ہوئی، جبکہ ایران نے حملے برداشت کرنے، خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت برقرار رکھی۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ جنگیں فطری طور پر پیچیدہ ہوتی ہیں اور پاول ڈاکٹرائن پر عمل کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا، تاہم اس پر عملدرآمد امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں سامنے آنے والی متعدد ناکامیوں سے بچا سکتا تھا۔
ایران کے خلاف جنگ سے سبق سیکھنے سے گریز
کوری شاکے کے مطابق ٹرمپ حکومت ایران کے خلاف جنگ کی ناکامیوں سے سبق سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ ناکامیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے اور جب فوجی و انٹیلی جنس اداروں کے جائزے حکومتی مؤقف سے مطابقت نہ رکھیں تو انہیں نظرانداز کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ محدود حملوں اور بے نتیجہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس سے امریکہ کی پوزیشن اور اس کے اتحادیوں کا اعتماد مزید کمزور ہوسکتا ہے۔
شاکے کے مطابق امریکی کانگریس کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے، جس میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی واضح اجازت دینا اور اسے ایران کے جوہری معاملے سے الگ رکھنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ پر آنے والے دسیوں ارب ڈالر کے اخراجات نے کانگریس کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ نگرانی، فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے اور واضح منصوبے کے بغیر جنگ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے ذریعے ٹرمپ حکومت کی پالیسی کا رخ درست کرے۔
شاکے کے مطابق اگرچہ ایران کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن فتح کا حصول مشکل ہوگیا ہے، تاہم تباہ کن شکست سے بچنا اب بھی ممکن ہے، بشرطیکہ امریکی کانگریس جنگ کی سمت درست کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
’’دس سالہ اصول‘‘ کا خاتمہ
نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والے ایک الگ مضمون میں قومی سلامتی اور فوجی حکمتِ عملی کے تجزیہ کار کرسٹوفر کیرول نے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ نے عملی طور پر ’’دس سالہ اصول‘‘ کا خاتمہ کردیا ہے۔
یہ تصور گزشتہ تین دہائیوں سے امریکی دفاعی منصوبہ بندی پر اثرانداز رہا ہے اور اس کی بنیاد اس خیال پر تھی کہ مستقبل کی جنگیں مختصر ہوں گی، جدید ٹیکنالوجی فوجی سازوسامان کی کمی کو پورا کردے گی اور ہتھیاروں کے ذخائر میں کبھی سنگین کمی نہیں آئے گی۔
کیرول نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ لندن نے ۱۹۱۹ء میں یہ فرض کرلیا تھا کہ آئندہ دس برس تک کسی بڑی جنگ کا امکان نہیں، چنانچہ دفاعی اخراجات اور صنعتی صلاحیت کم کردی گئی۔ تاہم جرمنی اور جاپان کے ابھرنے کے بعد واضح ہوگیا کہ صرف دفاعی بجٹ میں اضافہ کرکے کم مدت میں کھوئی ہوئی صنعتی صلاحیت بحال نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ جنگِ عظیم دوم سے کچھ ہی پہلے برطانیہ جنگی طیاروں اور ریڈار جیسے اہم نظام تیار کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس وقت تک جنگ کے لیے درکار صنعتی صلاحیت کی بحالی ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔
امریکہ بھی دوسری جنگِ عظیم سے پہلے کے برطانیہ جیسی صورتحال میں
کیرول کے مطابق ایران کے خلاف جنگ امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے کے لیے ایک عملی امتحان ثابت ہوئی اور اس کے نتائج حوصلہ افزا نہیں تھے۔
انہوں نے لکھا کہ جنگ کے دوران دفاعی اور حملہ آور میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہوئی، جن میں تھاڈ، پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل شامل ہیں، جبکہ امریکی دفاعی صنعت کو ان کی جگہ نئے ہتھیار تیار کرنے میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق مسئلہ صرف بجٹ کی کمی نہیں بلکہ امریکی صنعتی صلاحیت کا محدود ہونا بھی ہے، جسے صرف اضافی رقم مختص کرکے مختصر مدت میں بحال نہیں کیا جاسکتا۔
مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار اب بھی سالانہ صرف چند درجن تک محدود ہے، اگرچہ پیداوار بڑھانے کے منصوبے موجود ہیں۔
کیرول نے نتیجہ اخذ کیا کہ امریکہ آج ایسی صورتحال سے دوچار ہے جو دوسری جنگِ عظیم سے قبل برطانیہ کو درپیش تھی، جہاں اس کی تزویراتی ذمہ داریاں اس کی فوجی اور صنعتی صلاحیت سے بڑھ چکی تھیں۔
ان کے مطابق صرف جدید ٹیکنالوجی پر برتری اب کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط دفاعی صنعتی بنیاد قائم کرنا ضروری ہے، اور یہ کام جنگ شروع ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے کئی برس پہلے کیا جانا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ