11 جون 2026 - 04:27
حصۂ چہارم حضرت امام خمینی جامع الاطراف دینی، فکری و سیاسی شخصیت

معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) "ایک [واحد] شخصیت" نہیں تھے؛ وہ "ایک شخصیت کے اندر ایک تہذیب" تھے۔ وہ اس نادر حقیقت کا مظہر ہیں جسے انسانی فکر کی تاریخ میں "جامع الاطراف" (اور کثیر الجہت اور ہر جہت میں مکمل) شخصیت  کہا جاتا ہے: ایک فلسفی جو سیاست کو بغیر عرفان کے ادھورا سمجھتا ہے، ایک عارف جو فقہ کو سماجی تبدیلی کے بغیر تنگ نظر (بے لچک) شمار کرتا ہے، اور ایک فقیہ جو روحانیت کو "سماجی الہیات" کے میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔

حصۂ چہارم:

ایک مکمل شخصیت کا معمہ

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کا عرفان، فلسفہ، فقہ، ثقافت، شاعری اور سیاست، گویا باہم الجھی ہوئی ڈوریوں کی طرح، ایک ایسی شخصیت کا تانا بانا تشکیل دیتے ہیں جو نہ تو ان میں سے کسی ایک سانچے میں اکیلے سماتی ہے اور اور صرف ان خصوصیات کے تناظر میں قابل فہم ہے۔"

عرفان نے انہیں روحانی گہرائی اور ملکوتِ اعلیٰ میں سیر کرنے کی صلاحیت بخشی، فلسفے نے انہیں عقلی استحکام اور پختہ اور ٹھوس برہان عطا کیا، فقہ نے انہیں سماجی زندگی میں عدل و قانون کا فریم ورک دیا، ثقافت نے انہیں تاریخی شناخت اور قومی غیرت بخشی، شاعری نے انہیں واضح، آتشین اور دلکش زبان دی اور سیاست نے انہیں دنیا کے غیر منصفنہ نظام بدل ڈالنے کی ہمت عطا کی۔ اور ان سب کے ساتھ ان کی پرہیزگاری (تقوائے الٰہی) ان کے لئے ہدایت و راہنمائی کا چراغ تھی۔

یہ پہلو امام کی ذات میں اس طرح متحد ہو گئے کہ انہیں ایک طرف تو انفرادی سلوک کی بلندیوں تک لے گئے اور دوسری طرف اپنے دور کے سماجی اور سیاسی انقلابات کے مرکز میں پہنچا دیا۔ گویا امام نے یہ سمجھ لیا تھا کہ دنیا کو بدلنے کے لئے، سب سے پہلے روح کو عرفان سے آراستہ کرنا چاہئے، فکر کو فلسفے سے پیراستہ کرنا چاہئے، تحریک کو فقہ کے ذریعے سے منضبط کرنا چاہئے، اجتماعی روح کو ثقافت کے ذریعے بیدار رکھنا چاہئے، پیغام کو شعر و ادب کے ذریعے دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے، اور آخر کار، تبدیلی کے ارادے کو سیاست کی شکل میں عیاں و نمایاں کرنا چاہئے۔

جی ہاں! امام خمینی (رح) کو ایک وصف سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک عارف مسلک فقیہ، انقلابی فلسفی، زاہد سیاست دان، شاعر رہنما، بصیر معلم اور ثقافتی مصلح تھے جنہوں نے خونِ دل سے ایک نسل کو تربیت دی تاکہ "تحریک" کو "نظام" میں اور "نظام" کو "تہذیب و تمدن" میں بدل دیں۔ یہی وہ ناقابل حل معمہ ہے ایک انسانِ کامل کا جس نے فلسفے کو میدان میں اتارا، عرفان کو خلوت گاہ سے معاشرتی میدان پہنچایا، فقہ کو اقتدار تک پہنچایا، شاعری کو حماسے کی خدمت پر لگایا اور سیاست کو اخلاق و عبادت کے عروج پر پہنچا دیا۔

آج جب ہم امام کے مکتب کی بات کرتے ہیں، تو ہم اخلاق، سیاست، عرفان، علم، صبر، شجاعت اور امید کے ایک بے مثال امتزاج کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو کبھی بجھتا نہیں؛ کیونکہ ان کا نور عرشِ الٰہی اور فرشِ خاک دونوں سے یکساں طور پر روشنی حاصل کرتا ہے۔ قصور ہمارا ہے اگر ہم اس جامعیت کو اب بھی ان کے ایک پہلو میں سمیٹنا چاہیں؛ حالانکہ سب کچھ "طور" (جبل الطور اور اللہ کے ساتھ کلام کرنے کا مقام) ہے، بشرطیکہ ہم آنکھ کھول دیں۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha