آج، اس عظیم سائنسدان کی وفات کے 752 سال گذرنے کے باوجود، خواجہ نصیرالدین طوسی کا نام آج بھی ایران اور دنیا کی تاریخ کے بااثر ترین سائنسدانوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک مفکر جس نے مثلثیات کو علیحدہ علم کے طور پر متعارف کروایا، رصدگاہِ مراغہ کی بنیاد رکھی، سائنسدانوں کی آنے والی نسلوں کو تربیت دی، اور سائنس کی تاریخ کے لئے ایک پائیدار میراث چھوڑی۔
آج، اس عظیم سائنسدان کی وفات کے 752 سال گذرنے کے باوجود، خواجہ نصیرالدین طوسی کا نام آج بھی ایران اور دنیا کی تاریخ کے بااثر ترین سائنسدانوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک مفکر جس نے مثلثیات کو علیحدہ علم کے طور پر متعارف کروایا، رصدگاہِ مراغہ کی بنیاد رکھی، سائنسدانوں کی آنے والی نسلوں کو تربیت دی، اور سائنس کی تاریخ کے لئے ایک پائیدار میراث چھوڑی۔
معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔
معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔
معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔
علامہ سید محمد حسین طباطبائی ایک پُر سکون اور فکر میں ڈوبے ہوئے انسان تھے؛ لیکن اپنی اسی خلوت میں انھوں نے ایسا کام کیا جو ہزاروں ریلیوں اور جلسے جلوسوں سے زیادہ مؤثر تھا: انھوں نے انقلاب کے فکری رہنماؤں کو پروان چڑھایا۔