بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ واشنگٹن سے تل ابیب تک، شکست کی آواز گونج اٹھی ہے۔ میئر شیمر (Mearsheimer ) سے لے کر چک شومر شومر تک، سب ہی اقرار کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی کو تباہ کر دیا ہے۔ / آبنائے ہرمز میں استعماری قاعدہ الٹ گیا، ایک ایسی جگہ جہاں ایران کے طاقتور آہنی ہاتھ سے مغرب کی جغرافیائی-سیاسی شکست کو مستحکم کر دیا۔ [---] دنیا کے ذرائع ابلاغ میں بھی اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ میں ہار چکے ہیں۔ / نیویارکر (New Yorker) اور انڈیپنڈنٹ (Independent) سے لے کر وال اسٹریٹ جرنل (Wall Street Journal) اور مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) تک، سب ہی نے ٹرمپ کی ہار اور شکست، اس کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، اہداف کے حصول میں ناکامی اور بھاری اخراجات کا تذکرہ کیا ہے، یہ اس جنگ میں ایران کی اسٹراٹیجک برتری کی ایک واضح علامت ہے۔
حصۂ دوئم:
• امریکی مصنف اور مؤرخ پروفیسر ٹموتھی اسنائیڈر (Timothy Snyder):
- ٹرمپ کے پاس دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی فوجی طاقت تھی لیکن
- اس نے ایک ہفتے کے اندر ایک اوسط درجے کی طاقت کو یہ جنگ ہار دی۔
- ٹرمپ نے دنیا سے التجا کی کہ اسے بچائے اور پھر
- ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ میڈیا اس معاملے اور ہر دوسری چیز کے بارے میں جھوٹ بولے۔
- ٹرمپ یہ جنگ ہر ممکن اعتبار سے ہار گیا، اخلاقی، قانونی، سیاسی، معاشی، وقار اور اسٹراٹیجی کے لحاظ سے۔
• فرانسیسی ماہر معاشیات تھیئری بریٹن (Thierry Breton):
- جس نے ایک صدارتی مدت میں 35 ہزار جھوٹ بولے ہوں، کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ شکست قبول کر لے گا؟!
• امریکی تجزیہ کار آدام موکلر (Adam Mockler):
- آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے پیش نظر، ہم [امریکی] عملاً جنگ ہار چکے ہیں،
- ایران اب بھی دولت سمیٹ رہا ہے اور
- ٹرمپ نے پسپائی اختیار کر لی۔
- ٹرمپ جنگ ہار گیا۔
• پروفیسر، Brookings (بروکنگز) کے سینئر فیلو اور کتاب 'Dictator's Army' کے مصنف پروفیسر تالماج (Professor Talmage):
- ریاستہائے متحدہ یہ جنگ ہار گیا۔
• امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما، آدام اسمتھ (Adam Smith (D-Wash.)):
- ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے طویل مدتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
- ٹرمپ کے پاس جنگ کے لئے کوئی مربوط حکمت عملی نہیں تھی؛ اور
- ٹرمپ نے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے مشوروں کو نظر انداز کر دیا۔
- ایران کا نظامِ حکومت بدستور قائم و دائم ہے۔
- ایران کا کا میزائل پروگرام جاری و ساری ہے اور اسے ختم کرنے کے عزائم تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔
• مصنفہ، بینکر اور عالمی لیکویڈٹی کی ماہرہ (Kathleen Tyson):
- ریاستہائے متحدہ ایران کے مقابلے میں شکست کے بعد اپنی بالادستی کھو چکا ہے۔
- امریکہ مزید بالادست عالمی طاقت نہیں ہے۔
• صہیونی ریاست کی فوجی انٹیلی جنس (امان) میں ایران ڈیسک کا سابق سربراہ ڈینی سیٹرینووچ (Dany Citrinowicz):
- وقت آ گیا ہے کہ ایران کی حکومت کے بارے میں اپنی توقعات از سر نو ترتیب دیں۔
- ایران کبھی بھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔
• بی بی سی فارس کا تجزیہ کار علی افشاری:
- موجودہ صورت حال میں جنگ کا خاتمہ، ٹرمپ کے لئے ذلت آمیز شکست ہے!
• آسٹریلوی مصنف اور محقق ٹم اینڈرسن (Tim Anderson):
- ٹرمپ شکست کے عمل سے گذر رہا ہے؛ وہ وہ اسے برداشت کیسے کرے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: بہنام صادقی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ