بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ہمارے عروج کا دور 12 سال 15 پہلے تھا، اور اب ہم زوال کے عمل سے گذر رہے ہیں امریکی عوام کے لئے بہت دشوار ہے کہ اس حقیقت کو قبول کرسکیں، میں اس کو سمجھتا ہوں کیونکہ میں خود بھی ان ہی میں سے ایک ہوں۔
ہم ایک صدی تک ترقی کرتے رہے، جو زوال سے کہیں زیادہ دلکش ہے، اور اب زوال کی حالت میں ہیں، لیکن یہ مسئلہ کسی بھی سلطنت کے لئے پیش آتا ہے۔ ہم اس سلسلے کی اخری سلطنت ہیں۔ برطانیہ کو دیکھئے، اور کتنی دوسری سلطنتیں زوال پذیر ہوگئی ہیں، ہم بھی اسی عمل سے گذر رہے ہیں۔
چنانچہ انجیکٹڈ اکانومی کا مسئلہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرے، لیکن یہ مواقع چین، برازیل اور ہندوستان میں پیدا ہونگے نہ یہاں [امریکہ میں]۔
ہماری ایسی معیشت ہے کہ جس میں تاریخ میں پہلی بار کمپنیاں، اشخاص اور سرکاری شعبے بری طرح مقروض ہیں۔ ہمارے سرکاری قرضے قومی آمدنی سے کئی ٹریلین ڈالر زیادہ ہیں، جبکہ یہ قرضے بیسویں صدی میں نہیں تھے، لیکن آج ہیں۔
جو کچھ اپ دیکھ رہے ہیں وہ مایوسی کی سیاست ہے۔
یہ سب ایسے ملک کی نشانیاں ہیں جو گھٹن میں گھرا ہؤا ہے اور اپنی نجات کے لئے اپنے دوستوں کو قربان کر رہا ہے۔
میزبان: کیا ٹرمپ کا یہ خیال سچا ہے کہ اس کے اقدامات امریکی عوام کے لئے بہترین نتائج لائیں گے؟
پروفیسر وولف: جو کچھ میں اس کی باتوں سے سمجھتا ہوں؛ نہ جانے کس طرح سے مؤدب انداز سے کہہ دوں! وہ معاشیات کو خوب نہیں جانتا۔ جو کچھ وہ کہتا ہے ایسی باتیں ہیں جو ایک بی اے کا نیو کمر طالبعلم یونیورسٹی میں تین ہفتے رہنے کے بعد بھی نہیں کہتا۔
امریکی مفکر پروفیسر نے دوسرے پیغام میں کہا ہے:
- امریکی سلطنت آخری سانسیں لے رہی ہے، اور اس بیمار شخص کی طرح ہے جو بس تھوڑی دیر بعد مر رہا ہے۔
- ایران کے خلاف جنگ زوال پذیر امریکی سلطنت کی ایک نشانی ہے۔
- امریکی حکومت کے قرضے 39 ٹریلین ڈالر سے بڑھ گئے ہیں اور 2027 میں امریکی بجٹ کا خسارہ 2000 سے 3000 ارب ڈالر ہوگا۔
- اس جنگ میں ایک تضاد، جو سامنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا۔
- چین کی معاشی صورت حال یہ ہے کہ تین عشروں سے، اس کی معیشت نے سالانہ 8 سے 9 فیصد تک ترقی کی ہے، حالانکہ امریکہ کی اقتصادی ترقی صرف 2 فیصد ہے۔
- امریکی سلطنت ختم ہو چکی ہے۔
یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ عالمی نظام کی حقیقت ہے ایسے فرد کی زبان سے، جس نے اپنی عمر مغربی اقتصادی ڈھانچے کے اندر گذری ہے۔
پروفیسر رچرڈ وولف نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایران عالمی سطح پر فیصلہ کن طاقت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ