بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، صہیونی ریاست کے طفل کُش وزیر اعظم کی دوٹوک مخالفت کے باوجود، لبنان میں کل رات سے اسرائیل اور اسلامی مقاومت کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہؤا۔
انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی اور ایران کی مسلح افواج کی دو ٹوک دھمکی نیز حزب اللہ لبنان کے تابڑ توڑ حملوں نے صہیونی ریاست کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔
دہشت گرد امریکی صدر "ٹرمپ" نے اس سلسلے میں [جھوٹا] دعویٰ کیا: "میں نے لبنان کے محترم صدر جوزف عون اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بہت اچھی بات چیت کی۔ ان دو راہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امن کے حصل کی خاطر، باضابطہ طورپ 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کریں جو امریکہ کے مشرقی اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شام 17:00 سے شروع ہوگی۔ میں نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چیف آف اسٹاف کو ہدایت کی ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لئے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ تعاون کریں!"
پیڈوفائل امریکی صدر نے دوسرے پیغام میں، ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کہا: "پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بڑے لوگ ہیں۔ وہ ایران کے قریبی ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ کوئی حل تلاش کریں، اور اس سلسلے میں وہ کامیاب رہے ہیں۔"
واضح رہے کہ لبنان میں جنگ بندی مقاومت اسلامی کی زبردست استقامت کا نتیجہ ہے۔ حزب اللہ کے مجاہدین نے بدھ کے روز 65 کاروائیاں (40 لبنان کے اندر اور 25 مقبوضہ فلسطین میں) انجام دیں اور صہیونی فوجیوں، بنیادی ڈھانچوں اور فوجی سازوسامان نیز صہیونی نوآبادیوں کو نشانہ بنایا۔
صہیونی ریاست نے بھی جنوبی لبنان میں "حاریص"، "الزراریہ"، "مزرعۃ مشرف"، "باتولیہ"، "عريض دبين"، "بنت جبيل"، "عيتا الجبل"، "جويا"، "الہباریہ" اور "كفر رمان" پر حملے کئے۔
المیادین نیٹ ورک نے جنوبی لبنان سے رپورٹ دی: "گذشتہ تین دنوں سے صہیونی بنت جبیل میں داخلے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہر کاروائی میں شکست کھا جاتے ہیں۔"
لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا دو مارچ سے اب تک لبنان میں صہیونی جارحیت کے نتیجے دو ہزار 167 لبنان شہید ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ