24 مارچ 2026 - 17:05
خطے کی چھوٹی ریاستوں نے خود کو جنگ میں امریکہ کا شریک بنا دیا ہے، فرانسیسی تجزیہ کار + ویڈیو

فرانسیسی تجزیہ کار سیباستیان ریگنالٹ نے کہا: میں ایرانیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں تمام امریکی اڈوں پر جوابی حملے کرے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || فرانسیسی تجزیہ کار سیباستیان ریگنالٹ نے کہا: میں ایرانیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں تمام امریکی اڈوں پر جوابی حملے کرے گا۔ یہ جنگی قوانین کا ایک باب ہے، انہوں نے خود کو امریکہ اور اسرائیل کا اتحادی بنا دیا ہے، چنانچہ وہ نشانہ بن رہے ہیں / اور امارات اور بحرین نے خود بھی ایران پر حملے کئے ہیں!!

فرانسیسی تجزیہ کار سیباستیان ریگنالٹ (Sebastian Regnault) کا انٹرویو:

میزبان: کیا یہ چھوٹی ریاستیں معاشی لحاظ سے طاقتور ہیں، کیا اس جنگ میں ان کا کردار مؤثر ہے؟ کیونکہ یہ ریاستیں خود دیکھ رہی ہیں کہ ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔

سیباستیان ریگنالٹ (Sebastian Regnault): جی ہاں! ان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ لیکن جس طرح کہ ایران نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ اس پر حملہ کرے تو وہ مجبور ہونگے کہ امریکہ کے تمام اڈوں کو جواب دیں.

یہ ایک جنگی قانون ہے؛ جب ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے اور تیسرا ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنے اڈے حملہ آور ملک کے حوالے کرتا ہے، وہ تیسرا ملک حملہ آور ملک کا 'ہم مورچہ' یا 'شریک کار' سمجھا جاتا ہے۔

آپ دیکھتے ہیں کہ ایران بہت باریک بینی سے خطے کے اداکاروں کی زمرہ بندی اور ترجیح بندی کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اور امارات کا کردار ایک جیسا نہیں ہے۔

سعودی  عرب اپنے اڈوں سے ایران پر حملے نہیں کرتا لیکن اس کے برعکس امارات اور بحرین اپنے اڈوں سے [خود بھی] ایران پر حملے کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایران خطے کے تمام ممالک کی طرف فائرنگ کر رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے، پاکستان پر پر بمباری نہیں ہوئی، افغانستان پر بمباری نہیں ہوئی، ترکمانستان پر بمباری نہیں ہوئی، ارمینیا پر بمباری نہیں ہوئی، اور اس طرح کی دوسری مثالیں۔

یہ بہت حساس مسائل ہیں، جیسا کہ فرانس کے صدر نے اچھی طرح وضاحت کی۔

جب جنگ شروع ہوئی، تو فرانس کا موقف محض دفاعی تھا اور جارحانہ نہیں تھا؛ اس سلسلے میں بات ہی نہیں ہوئی کہ امریکہ فرانس کے فوجی اڈے استعمال کرے۔

حتی کہ جیسا کہ آپ کو یاد ہے، کہ جب امریکہ نے اسپین کے ایک فوجی اڈے کو استعمال کیا تو اس کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ایک بہت حساس مسئلہ ہے، کیونکہ جس لمحے اپنی حکمرانی اور سالمیت کو امریکہ یا اسرائیل کے سپرد کرتے ہیں، تو آپ ایرانیوں کے نزدیک دشمن کے "ہم رزم" اور جنگی فریق کے طور پر دیکھے جائيں گے اور ایران کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت بدل جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ سب ـ حتی کہ برطانیہ ـ بہت بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے ہیں۔

- دوست! ایران کا دفاع نہیں کرنا چاہئے!

ریگنالٹ: کیوں دفاع نہیں کرنا چاہئے؟ میں ایران کا دفاع نہیں کر رہا ہوں، میں مسائل کی تشریح کی کوشش کررہا ہوں، یہ مکمل طور پر حقیقت پر مبنی ہے اور میں کسی کا دفاع نہیں کر رہا ہوں۔

میری کوشش ہے کہ ناظرین کے لئے وضاحت کروں کہ ایک جنگ کس طرح عمل کرتی ہے۔

شاید ہمیں تھوڑے سے ابہام کا سامنا ہے اور نہ جانتے ہوں کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن فوجیوں کے لئے یہ مسائل بہت واضح اور درست (Accurate) ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha