امریکہ نوازی
-
عرب حکمرانوں کی امریکہ-اسرائیل نوازی؛
حصۂ چہارم | خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایلون مسک کے اثاثے ایران کے لئے جائز فوجی ہدف کیوں ہیں؟
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
-
عرب حکمرانوں کی امریکہ-اسرائیل نوازی؛
حصۂ سوئم | خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایلون مسک کے اثاثے ایران کے لئے جائز فوجی ہدف کیوں ہیں؟
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
-
عرب حکمرانوں کی امریکہ-اسرائیل نوازی؛
حصۂ دوئم | خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایلون مسک کے اثاثے ایران کے لئے جائز فوجی ہدف کیوں ہیں؟
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
خطے کی چھوٹی ریاستوں نے خود کو جنگ میں امریکہ کا شریک بنا دیا ہے، فرانسیسی تجزیہ کار + ویڈیو
فرانسیسی تجزیہ کار سیباستیان ریگنالٹ نے کہا: میں ایرانیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں تمام امریکی اڈوں پر جوابی حملے کرے گا۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
یہ اہل تشیّع اور ایران کے خلاف منظم جنگ ہے؛ یا دجال کامیاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی، تماشائی بخیریت نہ رہیں گے، شیعہ مصری مفکر
ڈاکٹر راسم النفیس نے کہا ہے: "لنڈسے گراہم نے ان کا پردہ فاش کر دیا، جب انھوں نے اعلان کیا کہ جو جنگ اس وقت جاری ہے، وہ ایک دینی اور مذہبی جنگ ہے؛ یعنی حقیقی محمدیؐ اسلام کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ، اس دجال کے مفاد میں، جس کو "ابراہیمی" کا نام دیا گیا ہے، اور یہ تاریخی لمحہ، ایک فیصلہ کن لمحہ ہے: یا دجال فتح یاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی۔"