کل رات امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شب شہادت تھی چنانچہ آپؑ کے پیروکاروں نے اس رات امریکی اور صہیونی مجرموں پر کاری ضربیں لگا دیں اور خوف و ہراس کا دبیز سایہ غاصبوں اور جارحوں کے گھونسلوں تک پھیلا دیا۔
فوجی ذرائع کہتے ہیں کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سب سے بڑا میزائل حملہ کل رات کو انجام پایا ہے، بھاری بھرکم میزائلوں کی گونج ابھی آسمانوں میں سنائی دے رہی تھی کہ اچانک "فتاح"، "خیبر شکن" اور "عماد" میزائلوں نے صہیونیوں کے مغصوبہ گھروں کی کھڑکیوں پر لرزہ طاری کر دیا۔ بچہ کُش اور اس کے جرائم پیشہ امریکی ـ مغربی حامیوں نے ظاہرا اس حقیقت کا ادراک کر لیا ہے کہ یہ الٰہی انتقام ایرانی مجاہدین کی آستین سے باہر نکل آیا ہے، اور دشمن کے کھوکھلے تصورات سے کہیں برتر و بالاتر ہے۔
یہ میزائل ـ جن میں ہائپرسونک میزائل "فتاح" ہی نہیں بلکہ "خیبر شکن" اور "عماد" بھی آسانی سے گذر کے اپنے نشانوں پر اترتے ہیں، ان دنوں، بالکل ہتھوڑے کی طرح فلسطین اور قبلۂ اول کے غاصبوں کے سر پر، اور ان کے کمانڈ رومز اور فوجی اڈوں پر۔ تل ابیب میں کوئی بھی قابل ذکر چی ایسی نہیں ہے جنہوں نے ایران میزائلوں کا مزہ نہ چکھا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ