11 مارچ 2026 - 22:27
فتاح اور خیبرشکن کی گرج، مقبوضہ فلسطین غاصبوں کے لئے جہنم بن گئی

کل رات ـ شب قدر ـ ایرانی میزائلوں نے صہیونیوں کی آنکھيں نیند سے آشنا نہیں ہونے دیں، مقبوضہ اراضی پر لرزہ طاری رکھا میزائل بھاری بھی تھے، کوئی وارہیڈ ایک ٹن سے کم نہ تھا؛ اور تیز رفتار بھی: 12660 سے 16000 کلومیٹر فی گھنٹہ۔ دفاعی سسٹم ویسے بھی ناکارہ ہو چکے ہيں، لیکن اگر چھلنی-ڈوم (سابقہ آئرن ڈوم) کی کچھ بیٹریاں باقی بھی ہوں، ان میزائلوں سے نمٹنا ممکن نہیں ہے۔

کل رات امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شب شہادت تھی چنانچہ آپؑ کے پیروکاروں نے اس رات امریکی اور صہیونی مجرموں پر کاری ضربیں لگا دیں اور خوف و ہراس کا دبیز سایہ غاصبوں اور جارحوں کے گھونسلوں تک پھیلا دیا۔

فوجی ذرائع کہتے ہیں کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سب سے بڑا میزائل حملہ کل رات کو انجام پایا ہے، بھاری بھرکم میزائلوں کی گونج ابھی آسمانوں میں سنائی دے رہی تھی کہ اچانک "فتاح"، "خیبر شکن" اور "عماد" میزائلوں نے صہیونیوں کے مغصوبہ گھروں کی کھڑکیوں پر لرزہ طاری کر دیا۔ بچہ کُش اور اس کے جرائم پیشہ امریکی ـ مغربی حامیوں نے ظاہرا اس حقیقت کا ادراک کر لیا ہے کہ یہ الٰہی انتقام ایرانی مجاہدین کی آستین سے باہر نکل آیا ہے، اور دشمن کے کھوکھلے تصورات سے کہیں برتر و بالاتر ہے۔

یہ میزائل ـ جن میں ہائپرسونک میزائل "فتاح" ہی نہیں بلکہ "خیبر شکن" اور "عماد" بھی آسانی سے گذر کے اپنے نشانوں پر اترتے ہیں، ان دنوں، بالکل ہتھوڑے کی طرح فلسطین اور قبلۂ اول کے غاصبوں کے سر پر، اور ان کے کمانڈ رومز اور فوجی اڈوں پر۔ تل ابیب میں کوئی بھی قابل ذکر چی ایسی نہیں ہے جنہوں نے ایران میزائلوں کا مزہ نہ چکھا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha