10 مارچ 2026 - 23:54
کشیدگی میں اضافہ ایران کے فائدے اور امریکہ کے نقصان میں ہے، لیکن کیسے؟

مغربی ذرائع کے مطابق، لگتا ہے امریکہ اور اسرائیل نے شاید اپنے منہ سے بڑا نوالہ اٹھایا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ||

● 28 فروری 2026ع‍ کو، ایران پر امریکی - صہیونی جارحیت کا آغاز جدید جنگ کا مظاہرہ تھا لیکن دو ہی گھنٹے بعد امریکی اور اسرائیلی اہداف پر ایران کے تابڑ توڑ حملوں نے ماڈرن جنگ کے مغربی -صہیونی پراجیکٹ کو خاک میں ملا دیا اور جنگ ـ دشمن کے منصوبے کے مطابق ـ محدود نہ رہ سکی۔

● ایران کے رد عمل نے خلیج فارس کے لئے عظیم اور مہنگے نتائج رقم کئے۔ ایران میں بچوں سمیت نہتے عوام کو شہید کیا گیا اور ساتھ ہی جہازرانی کا سلسل معطل ہو گیا اور مغرب کا مطلوبہ علاقائی امن مخدوش ہو گیا۔

● ایران horizontal escalation اسٹراٹیجی کے تحت، جنگ کا پیمانہ وسیع اور مدت کو طویل کرنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے خطرات کو گھٹا سکے۔ ایران اس حکمت کے ذریعے دشمن کے اندازوں کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے؛ یہ ایک مؤثر حکمت عملی ہے جو ویت نام اور سربیا میں بھی مثبت رہی ہے۔

● ایران اس جنگ سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

● امریکہ نے ایرانی افواج کو مفلوج کرنے کی کوشش کی لیکن ایران نے چند ہی گھنٹوں میں اپی کمانڈ اور کنٹرول اور آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے اس تصور کو باطل کر دیا اور امریکی افواج کے ممالک کے لئے ایک ناقابل انکار پیغام دیا کہ: "جو ممالک امریکی افواج کے میزبان ہیں، انہیں شدید نتائج بھگتنا ہونگے، اور جو جنگ تمہارے آقاؤں نے شروع کی ہے وہ پھیل جائے گی اور تم بھی دامن نہ بچا سکو گے۔

● ایران نے اپنے حملوں سے اس جنگ کو ایک سیاسی جنگ میں بدل دیا ہے۔ امریکی کانگریس کے اراکین جنگ کا دامن پھیل جانے کی وجہ سے فکرمند ہیں۔

● ایران کی ایک بڑی اسٹراٹیجی وقت ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک جس قدر دباؤ محسوس کریں گے، ممالک کی اندرونی اور علاقائی پالیسیاں جنگ میں شدت لا سکتی ہیں۔

ایران کے اوزار اور مقاصد

1۔ تہران اس تصور کو ختم کرنا چاہتا ہے کہ خلیج فارس ایک زدپذیر خطہ ہے۔ دبئی اور دوحہ جیسے شہر اپنا تعارف پرامن مالی اور لاجیسٹک مراکز کے عنوان سے کراتے ہیں۔ جب میزائل حملے کے سائرن دنیا کے ایک بڑے ایئرپورٹ ـ یعنی دبئی ایئرپورٹ کو بند کر سکتا ہے، تو اس کی ساکھ کو لگنے والا دھچکا، ایرانی میزائل لگنے سے پہنچے والے نقصان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہے۔ دبئی اور دوحہ کی فضاؤں میں آنے جانے والے میزائل اور ان میزائلوں کی فضائی مڈ بھیڑ سرمایہ کاروں کو ڈرا دیتی ہے [اور وہ اپنا سرمایہ لے کر ہانگ کانگ یا سنگاپور ـ کا رخ کرتے ہیں]۔

2۔ ایران نے خلیج فارس کے ممالک کے لئے امریکی افواج کی میزبانی کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

3۔ تہران خطے میں ایک نئی ترتیب (Regional Order) نافذ کر رہا ہے۔ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت و مقاومت کے عنوان سے کاروائیاں کر رہا ہے اور یہ کاروائیاں عرب ممالک کی حکومتوں اور عوام کے درمیان دراڑوں کا سبب بن رہی ہیں؛ یہ دراڑیں جنگ کے طویل تر ہونے کی صورت میں زیادہ شدت اختیار کر رہی ہیں اور یوں ایران خطے کی مسلط طاقت بن رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha