1 جنوری 2026 - 19:47
امریکہ اور "مقدر کا اظہار" اور "مونرو" نظریات؛ کیا ٹرمپ کا امریکہ چین پر قابو پا سکے گا؟

کمزور پڑوسیوں پر دباؤ ڈالنے کی موجودہ امریکی پالیسی سریع الزوال معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ علاقائی تبدیلیوں، خاص طور پر سرمایہ کاری اور سفارت کاری کے ذریعے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ جابرانہ اور یکطرفہ حکمت عملی طویل مدت میں اپنی ساکھ کھو جائے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرمپ کا ضمیمہ بعنوان "Trump's corollary" نظریۂ "مقدر کا اظہار" (Doctrine of Manifest destiny) اور "مونرو نظریہ" (Monroe Doctrine) کی روح کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس نے صدیوں پہلے لاطینی امریکی براعظم میں امریکی علاقائی توسیع پسندی کے دروازے کھول دیئے تھے؛ ایسا لگتا ہے کہ اس ضمیمے کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا مقصد اس براعظم میں ـ حتی کہ "تشدد" ذرائع کا  استعمال کرکے ـ امریکی بالادستی کا زوال روکنا ہے۔ تاہم، اس طرح کی حکمت عملی کی تاثیر ماضی (ایک یا دو صدیاں پہلے) کی طرح تیز رفتار نہیں ہوگی اور اس کا نفاذ آسان نہیں ہوگا۔

لبنانی اخبار الاخبار نے "ریم ہانی" کا لکھا ہؤا ایک مضمون شائع کرتے ہوئے لکھا: "کیریبئن علاقے میں  سرد جنگ کے بعد امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی، اور امریکہ کا اس دعوے کو ـ کہ نکولس مادورو کی حکومت میں وینزویلا امریکہ کے لئے خطرہ ہے، ـ کہا جا رہا ہے کہ اس کا سب سے اہم سکتا ہے کہ مونرو ڈاکٹرائن کو بحال کیا جا رہا ہے، اور اس مسئلے کے بارے میں بحث و مباحثہ امریکہ کی نئی سیکورٹی دستاویز میں بہت حد تک بحال کیا جاچکا ہے۔"

مونرو نظریہ ایک امریکی سیاسی نظریہ تھا جس کا اعلان صدر جیمز مونرو نے 2 دسمبر 1823 کو کیا تھا۔ اس نے براعظم امریکہ کی نئی آزاد ریاستوں میں یورپی مداخلت کی مخالفت کی۔ اس نظریئے کا مقصد ان نئی آزاد ریاستوں کو یورپیوں کے ہاتھوں دوبارہ فتح کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنا تھا جو سابقہ ​​یورپی کالونیاں تھیں۔

نظریۂ "مقدر کا اظہار" (Doctrine of Manifest destiny) کا تصور پہلی بار 1845 میں امریکی صحافی اور ایڈیٹر جان او سلیوان نے ڈیموکریٹک ریویو میں بطور اصطلاح استعمال کیا۔ O'Sullivan نے یہ اصطلاح ٹیکساس کے ریاستہائے متحدہ کے ساتھ الحاق کے دفاع میں استعمال کی، اور امریکہ کی توسیع کو "خدائی حکم" کے طور پر بیان کیا۔ اس نے اپنے مضمون میں لکھا:

"ہماری آبادی کا مغرب کی طرف پھیلاؤ اس براعظم کی فتح کے لئے ایک خدائی منصوبے کا نتیجہ ہے۔۔۔ یہ توسیع ایک آسمانی فرمان ہے، جو لاکھوں امریکیوں کی آزادی اور خوشحالی کو یقینی بناتا ہے۔"

تاہم، اگرچہ 19ویں صدی میں "مقدر کا اظہار" کی اصطلاح سامنے آئی، اسی طرح کے تصورات شمالی امریکہ کے مشرقی ساحل پر برطانوی نوآبادیات کے آغاز ہی سے موجود تھے۔

آج، اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تیار کردہ تازہ ترین قومی سلامتی کی اسٹراٹیجی نے ـ مغربی نصف کرہ کے بارے میں واشنگٹن کے نقطہ نظر کو "مونرو کے نظریئے کا ٹرمپک ضمیمہ" ـ قرار دیا ہے، لیکن اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ درحقیقت، ٹرمپ کی پہلے دور صدارت کے دوران، وہ اور اس کے ماتحت حکام لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ روسی فوجی تعاون کی مخالفت کرنے اور خطے میں چین کے اقتصادی عروج کو ایک "سیکیورٹی خطرے" کے طور پر پیش کرنے کے لئے باقاعدگی سے مونرو نظریئے پر زور دیتے رہے تھے۔

امریکہ فی الحال ایک عالمی سپر پاور ہے، لیکن اس کو چین اور روس جیسے ابھرتے ہوئے حریفوں کا سامنا ہے اور اسی اثناء میں اس کے اپنے یورپی اتحادیوں کی اقتصادی اور فوجی صلاحیتوں میں شدید کمی کا شکار ہیں، اور پھر یورپ کے ساتھ اس کے اپنے مسلسل بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات بھی ہیں؛ جس کی وجہ سے اس نے ان ممالک کو زیر کرنے کے لئے محدود فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ، ـ وسیع پیمانے پر اقتصادی اور سفارتی ذرائع کے استعمال پر مبنی حکمت عملی اپنائی ہے، جن میں وہ اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہشمند ہے۔

دسمبر 2024 میں، فارن افیئرز میگزین نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت لاطینی امریکہ پر گذشتہ 30 سالوں میں کسی بھی دوسری انتظامیہ ـ نیز اس کے اپنے دور ـ کے مقابلے میں زیادہ توجہ مرکوز کرے گی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا تھا کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ لاطینی امریکی حکومتوں ـ بشمول برازیل، پاناما اور پیرو ـ پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ بندرگاہوں اور 5G ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر نیٹ ورکس جیسے حساس منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری قبول کرنے سے انکار کریں؛ کیونکہ کچھ ریپبلکن اس چینی سرمایہ کاری کو مونرو ڈاکٹرائن کی ناقابل قبول خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ درحقیقت، ٹرمپ کی پاناما کینال پر قبضے کی دھمکیاں، جس پر 20ویں صدی کے بیشتر حصے میں ریاستہائے متحدہ کا کنٹرول تھا، تیزی سے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے پاناما کی دستبرداری کا باعث بنیں۔

تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واشنگٹن کی حکمت عملی کو لاطینی امریکی ممالک کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ چنانچہ کمزور پڑوسیوں پر دباؤ ڈالنے کی موجودہ امریکی پالیسی سریع الزوال معلوم ہوتی ہے، اس لئے کہ یہ حکمت عملی علاقائی حقائق اور تبدیلیوں کو نظر انداز کرتی ہے؛ خاص طور اس حقیقت کو کہ چین سرمایہ کاری اور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور اس میدان میں وہ کافی حد تک کامیاب ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جابرانہ اور یکطرفہ امریکی حکمت عملی طویل مدت میں اپنی ساکھ کھو جائے گی، کیونکہ چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے دھمکیوں اور جبر کے بجائے باہمی مفادات اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کی بنیاد پر شراکت داری کی ضرورت ہے۔

تاہم، امریکہ کو اس راستے میں قدم اٹھانے کے لئے "وقت کی ضرورت" ہے؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ واشنگٹن کے پاس کچھ شاید زیادہ وقت نہیں ہے، کیونکہ زیادہ تر لاطینی امریکی ممالک اب بیجنگ کو سرمایہ کاری کا ذریعہ اور اپنے انفراسٹرکچر اور مارکیٹوں کے لئے ایک پارٹنر کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ اپنی کی "سیکیورٹی یا جمہوریت" کے لیے خطرہ؛ چنانچہ لگتا ہے کہ واشنگٹن کے ہاتھ سے مونرو ڈاکٹرائن کے تحت لاطینی امریکہ پر تسلط جمانے کا وقت نکل گیا ہے اور عالمی سطح پر کمزور پڑنے والی امریکی "سلطنت" سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہے؛ زوال کے ایک مرحلے کے طور پر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha