14 فروری 2026 - 10:41
مآخذ: سچ خبریں
فلسطینیوں کی صورتحال ناقابل برداشت ہے: انتونیو گوترش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے زندگی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کو فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیا۔

سیکرٹری جنرل گوترش نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے قیام اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عام شہریوں کی تکالیف میں کمی لانا انتہائی ضروری ہے اور انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔

ادھر مغربی کنارے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اطلاقات کے مطابق، آج نابلس شہر کے قریب واقع قصبے تلفیت پر صہیونی فوجیوں اور مسلح آبادکاروں کے حملے میں کم از کم 54 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحریک مزاحمت اسلامی (حماس) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیر قیادت "مجرم جنگی حکومت” فلسطینی عوام کے خلاف نسلی تطہیر کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں مسلح آبادکاروں کو فوجی تحفظ فراہم کرکے انہیں شہریوں پر حملوں کی آزادی دی جا رہی ہے، جس سے علاقائی امن کی راہ میں سنگین رکاوٹیں کھڑی ہو رہی ہیں۔

امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی تیز رفتار پالیسیوں کے تحت مغربی کنارہ مشرق وسطیٰ میں اگلے بڑے دھماکے کا محاذ بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سیکرٹری جنرل گوترش نے اپنے خطاب میں سوڈان کے بحران کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان میں انسانی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اور وہاں بھی فوری طور پر تشدد ختم کرکے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha