16 فروری 2026 - 11:42
مآخذ: ابنا
 ایران منصفانہ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے، جنگ کا کوئی ارادہ نہیں:لاریجانی

 ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کے سیکرٹری، علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تہران منصفانہ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے جو ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر عالمی خدشات کو دور کرے۔

 ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کے سیکرٹری، علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تہران منصفانہ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے جو ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر عالمی خدشات کو دور کرے۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے لاریجانی نے بتایا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی تیاری میں اضافہ کیا ہے اور کسی بھی امریکی مطالبے کا رسمی جواب نہیں دیا گیا بلکہ صرف تبادلۂ خیال جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کو مثبت سمجھتا ہے بشرطیکہ یہ منصفانہ اور معقول ہوں اور جوہری معاملات سے باہر مسائل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ نہ بنیں۔

لاریجانی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تحت  کے معاہدے کی نگرانی کو قبول کرتا ہے۔ "غنی سازی صفر" کے مطالبات غیر حقیقی ہیں کیونکہ جوہری علم کو سیاسی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور ایران کے طبی اور تحقیقی مقاصد بھی ہیں۔

انہوں نے موشکی پروگرام کو قومی دفاع کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات میں زیر بحث نہیں آیا اور دفاعی بازدارندگی ناقابلِ مذاکرات ہے۔

اسرائیلی اثر و رسوخ پر بات کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ بعض مبالغہ آرائی کے باوجود حقیقی نفوذ محدود ہے اور حالیہ مسائل کچھ اداروں کی غفلت اور کم ہوشیاری کی وجہ سے پیش آئے۔ حکومت نے ان نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا اور سیکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔

لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل سے ملک کی صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئیں۔ اسرائیل نے بعض رہنماؤں کو ہلاک کیا، لیکن ایران کے میزائل انہیں روکنے میں کامیاب رہے۔ حملے شدید ہوں، لیکن یہ ایران کی نظریاتی یا ساختی مضبوطی کو ختم نہیں کر سکتے، بلکہ صف بندی اور تیاری میں اضافہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان اب اسرائیل کے مقابلے کے لیے مضبوط ہے اور گزشتہ حملوں کے باوجود ہماس غزہ میں اپنے امور چلانے میں کامیاب رہا ہے۔ ایران کسی بڑے جنگ کے آغاز کا خواہاں نہیں اور ہر ممکنہ منظرنامے کے لیے تیار ہے۔

لاریجانی نے قطر کے ثالثی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں مزید تناؤ کو بڑھانے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ چین اور روس کے ساتھ تعلقات مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں اور ان کا ایران کے حق میں ووٹ سیاسی شراکت داری کی علامت ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور مذاکرات اور دفاعی بازدارندگی دونوں پر انحصار کرے گا۔ محور مقاومت نے ترور اور حملوں کے جھٹکوں کے بعد اپنی قوت کو منظم کیا ہے اور حالیہ رویارویی نے اس کی موجودگی کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے مضبوط کیا۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha