مساجد پر بلڈوزر،مشکل دور میں ملک کے مسلمان، میرواعظ عمر فاروق کا موجودہ صورتحال پر گہری تشویش
کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ بڈگام میں ایک مذہبی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں مساجد پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں، مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور کمیونٹی کے افراد پر حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات نے عام مسلمانوں کے دلوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”بھارت میں مسلمان اس وقت ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمیں بے آواز لوگوں کی آواز بننا ہوگا اور انصاف و ہم آہنگی کے لیے کھڑا ہونا ہوگا“۔ میرواعظ نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ دعا، صبر اور خود احتسابی کا پیغام دیتا ہے، اس لیے اس موقع پر اتحاد اور خیر خواہی کو فروغ دینا ضروری ہے۔
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ رمضان ایسے وقت میں آ رہا ہے جب دنیا بھر کے مسلمان مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اصلاح سے آغاز کرنا چاہیے اور نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے امید ظاہر کی کہ رمضان کے دوران کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی اور جمعہ کی نماز، جمعۃ الوداع، شبِ قدر اور عید کی نماز سمیت تمام اجتماعی عبادات بلا رکاوٹ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
میرواعظ نے فلسطین میں جاری تشدد اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قتل و غارت کے واقعات جاری ہیں اور ایران سمیت مغربی ایشیا کے دیگر علاقوں میں بھی بے چینی پھیلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف خطوں میں مسلمانوں کی تکالیف انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں صبر، تحمل اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے تاکہ ملک میں امن و استحکام برقرار رہ سکے۔
آپ کا تبصرہ