18 ستمبر 2026 - 13:36
امریکی دور کا خاتمہ، امریکیوں کی زبانی - 2

امریکہ کے نامور تجزیہ نگار فلپس پیسن او برائن نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے "بے بس ہوجانے" کو واشنگٹن کی عالمی بالادستی کے دور کے خاتمے کا مظہر قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ فوجی اڈوں کی کمزوری، ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی، پیداواری صلاحیت کی فرسودگی اور امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلق کے کمزور پڑجانے کی وجہ سے طاقت کے توازن میں گہری تبدیلیاں آشکار ہو چکی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien)  نے ـ دی اٹلانٹک میں ایک مضمون میں ـ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

دوسری قسط:

ٹرمپ کشیدگی بڑھانے سے پسپا ہؤا؟

ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد دھمکیوں کے باوجود موسم گرما میں ایران کے ساتھ تنازع میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا، اس کی ایک اہم وجہ بحرین کے اڈے کا ہاتھ سے نکل جانا تھا، وہ اڈہ جسے امریکی بحریہ نے کئی دہائیوں تک خطے میں اپنے جہازوں کے ساز و سامان اور معاونت کے لئے استعمال کیا تھا۔

نتیجہ یہ ہؤا امریکی بحری کارروائیوں کی رسد کی زنجیر (Supply chain) بحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیگو گارسیا تک پھیلانے پر مجبور ہو گئی، جو برطانوی کنٹرول میں ایک جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز سے دو ہزار میل سے بھی زیادہ دور ہے۔

فوجی دستوں اور ساز و سامان کی دوبارہ فراہمی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اخراجات بڑھ گئے، عملی کارکردگی کم ہو گئی اور فوجی دستوں پر دباؤ سخت سے سخت تر ہو گیا۔

رسد کی زنجیر میں خلل نے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی طویل تعیناتی تعیناتی اور امریکی فوجیوں کی شدید تھکاوٹ اور مایوسی کے ساتھ مل کر، ڈالا، امریکی افواج کے حوصلوں کو پہلے سے زیادہ پست کر دیا۔

فوجی ویب گاہ "اسٹارز اینڈ اسٹرائپس (Stars and Stripes)" کی رپورٹ کے مطابق، اس جہاز کے عملے کے اہل خانہ کو تشویش تھی کہ سمندر میں مہینوں کے قیام نے ان کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کئے ہونگے۔

تباہ شدہ امریکی اڈے ابھی ویران پڑے ہیں

وہ اڈے جو ایران کے حملوں میں سروس سے باہر ہو گئے ہیں، اس وقت بند اور خالی ہیں اور غالباً مستقبل میں بھی بھی کافی عرصے تک بھی بند رہیں گے، اور  بنیادی طور پر امریکی دستوں اور ساز و سامان کو درپیش خطرے کی وجہ سے استعمال میں نہیں لائے جا سکیں گے۔

بحریہ کے اہلکاروں کی ایک نشست میں ایک اہلکار نے امریکی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل ڈیرل کاڈل (Daryl Caudle) سے بحرین کے اڈے سے ذاتی سامان واپس لینے کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا: میں صاف بتانا چاہتا ہوں کہ "ہم مستقبل قریب میں وہاں واپس نہیں جائیں گے۔"

ایران کے قریب واقع امریکی تنصیبات کی زدپذیری اتنی زیادہ ہے، اور ان کی ممکنہ تعمیرنو کی لاگت اتنی بھاری ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام شاید ان اڈوں کی تعمیر نو کا ارادہ ہی نہ رکھتے ہوں۔

واشنگٹن پوسٹ اس صورتحال کو "ہر نسل میں ایک بار پیدا ہونے والا موقع قرار دے سکتا ہے تاکہ پینٹاگون خلیج فارس میں اپنی موجودگی پر نظرثانی کرے۔

لیکن بنیادی حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوج موجودہ حالات میں ایران جیسے سے کم ٹیکنالوجی رکھنے والے دشمن کے سامنے، اپنی کلیدی تنصیبات کا دفاع نہیں کر سکتی۔

بحر الکاہل سے فوجی وسائل کی منتقلی

امریکی طاقت کے زوال کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے اور سلسلہ وار [منفی] اثرات رونما ہوئے؛ یہاں تک کہ امریکی فوج کو ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی صلاحیت برقرار رکھنے کے لئے، مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل میں واقع تزویراتی اڈوں میں موجود اہم ساز و سامان باہر نکالنا پڑا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بالآخر گذشتہ ماہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس لنکن کا مشن ختم کر دیا اور معمول کے مطابق، جاپان کے پانیوں میں تعینات ایس ایس جارج واشنگٹن کو ـ متبادل کے طور پر ـ بحیرہ مکران میں تعینات کیا؛ حالانکہ اس جہاز کا معمول کا کام چین کو فوجی کارروائی سے روکنا تھا اور مشرقی ایشیا میں تسدید قائم کرنا تھی، جو اب سخت کمزور ہو چکی ہے۔

امریکی فوج کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فوجی وسائل اگرچہ بہت سے ممالک کے مقابلے میں بے پناہ ہیں، لیکن لامحدود نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از: میثم یعقوبی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha